گوادر کے سمندر کا حیرت انگیز منظر، بلوم کے باوجود ڈولفنز کا رقص
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
گوادر کے قریب سمندر میں نوکٹیلُوکا بلوم کے باعث پانی سبز ہونے کے باوجود ڈولفنز کا گروپ ایک ساتھ دیکھا گیا جسے ماہرین نے مثبت علامت قرار دیا۔ذرائع کے مطابق بلوم کے باوجود مچھلیوں کی ہلاکت کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بلوم زہریلا نہیں۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق نوکٹیلُوکا بلوم ایک قدرتی موسمی عمل ہے اور اس کا آلودگی سے کوئی تعلق نہیں، یہ بلوم عام طور پر سی اسپارکل کے نام سے جانا جاتا ہے جو نوکٹیلُوکا نامی ایک چھوٹے تیرنے والے سمندری جاندار کی وجہ سے بنتا ہے۔ماہرین کے مطابق نوکٹیلُوکا بلوم ہر سال سردیوں میں نومبر سے فروری کے دوران ظاہر ہوتا ہے، رواں سال اس کا آغاز نومبر میں ہوا اور یہ کراچی سے بلوچستان کے ساحل تک پھیل چکا ہے۔بلوم کے باعث گوادر کے مغربی اور مشرقی خلیج کے ساتھ ساتھ پسنی سے جیوانی تک سمندر کا پانی سبز نظر آ رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈولفنز کی موجودگی اس بات کی نشاندہی ہے کہ سمندری ماحول اب بھی متوازن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلوم کے
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔