بلوم کی موجودگی کے باوجود، گوادر کے سمندر میں ڈولفن کا گروپ اکٹھے دیکھا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
فوٹو: جیونیوز
گوادر کے سمندر میں بلوم کی موجودگی کے باوجود ڈولفنز کا نظارہ کیا گیا۔
کراچی سے ورلڈ وائیڈ فنڈز فار نیچر (عالمی ادارہ برائے تحفظ جنگلی حیات) کے مطابق گوادر کے سمندر میں ڈولفن کے ایک گروپ کو ایک ساتھ دیکھا گیا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق یہ بلوم قدرتی موسمی عمل ہے، آلودگی سے کوئی تعلق نہیں۔
ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان معظم خان کے مطابق نوکٹیلوکا بلوم نومبر سے فروری کے دوران ہر سال ظاہر ہوتا ہے، یہ قدرتی موسمی عمل ہے جس کا آلودگی سے کوئی تعلق نہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے مزید بتایا کہ اس بلوم کو عام طور پر سی اسپارکل کے نام سے جانا جاتا ہے، نوک ٹیلو کا ایک چھوٹا تیرنے والا جاندار ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق نوک ٹیلو کا بلوم ہر سال نومبر سے فروری کے دوران ظاہر ہوتا ہے، رواں سال یہ بلوم کراچی سے بلوچستان کے ساحل تک پھیل چکا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق نوک ٹیلو کے بلوم کا آغاز پاکستان میں نومبر میں ہوا ہے، بلوم کے باعث پسنی سے جیوانی تک سمندر کا پانی سبز ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔