آغا سید باقر الحسینی نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی عبادتوں، نمازوں، زیارتوں، مجالس، تبرکات اور نیکیوں پر ناز اور فخر نہ کریں، کیونکہ عبادت پر غرور عبادت کو ضائع کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ریا ایک خطرناک روحانی بیماری ہے۔ عبادت اگر اللہ کے لیے نہ ہو بلکہ لوگوں کو دکھانے، تعریف سننے یا سماجی مقام بڑھانے کے لیے ہو تو وہ عبادت بے وزن ہو جاتی ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ ریا چھپا ہوا شرک ہے، جو انسان کی ساری محنت کو ضائع کر دیتا ہے۔ مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی نیکی کو چھپاتا ہے اور اللہ کے حضور عاجزی اختیار کرتا ہے، کیونکہ قبولیت کا معیار عمل کی کثرت نہیں بلکہ اخلاص ہے۔ رپورٹ: آغا زمانی

مرکزی جامع مسجد سکردو بلتستان میں ہفتہ وار درسِ اخلاق سے خطاب کرتے ہوئے انجمنِ امامیہ بلتستان کے صدر آغا سید باقر الحسینی نے معرفتِ اہلِ بیت علیہم السّلام، خصوصاً زیارتِ اہلِ بیت علیہم السّلام اور زیارتِ امام حسین علیہ السّلام کی حقیقی روح پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ زیارت یقیناً عظیم عبادت اور بلند سعادت ہے، مگر زیارت پر روانہ ہونے سے قبل بندوں کے حقوق کی ادائیگی نہایت ضروری ہے۔ اگر کوئی بھائی بھائی سے ناراض ہے تو زیارت پر جانے سے پہلے اسے منا کر جائے، اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو اس سے معافی طلب کرے، اگر کسی کے ذمے قرض، خمس یا زکوٰۃ واجب ہے تو اسے ادا کرے، حتیٰ کہ اگر کسی ملازم یا کمزور کے ساتھ سخت کلامی ہوئی ہو تو اس کا ازالہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص حقوق العباد ادا کرکے زیارت کے لیے گھر سے پہلا قدم اٹھاتا ہے، روایات کے مطابق فرشتے اس کے قدموں کو اپنے پروں پر اٹھاتے ہیں اور اسے مولا کی بارگاہ تک پہنچاتے ہیں، اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ ایسا پاکیزہ ہو جاتا ہے، جیسے آج ہی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو۔ آغا باقر حسینی نے کہا کہ روایات میں آیا ہے کہ زیارتِ امام حسین علیہ السلام کرنے والے پر جنت واجب ہو جاتی ہے، لہٰذا جو مؤمن زیارت کرکے واپس آتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی جنت کی حفاظت کرے، یعنی گناہوں، ظلم، غرور اور بدعملی سے خود کو محفوظ رکھے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ ہم عبادت کرتے ہیں، نمازیں ادا کرتے ہیں، صدقات و خیرات دیتے ہیں، غرباء کی مدد کرتے ہیں، بعض لوگ دور دراز علاقوں سے مساجد میں جماعت کے لیے آتے ہیں، حتیٰ کہ بعض مؤمنین نمازِ شب کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی عبادتوں کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔؟

اسی سلسلے میں انہوں نے ایک اہم روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ مصادر میں منقول ہے کہ خداوندِ متعال نے حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی فرمائی: "اے داؤد۔۔ میرے بندوں کو میری رحمت کی بشارت دو اور انہیں میری مغفرت سے ناامید نہ کرو، کیونکہ اگر گنہگار میری رحمت سے ناامید ہوگئے تو ہلاک ہو جائیں گے۔ (یہ مضمون متعدد شیعہ کتب میں آیا ہے، جن میں: ???? الکافی، شیخ کلینی، جلد 2، کتاب الایمان والکفر، باب الرجاء، ???? بحارالانوار، علامہ مجلسی، جلد 6 و جلد 70
شامل ہیں۔) ان روایات کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو رد نہیں کرتا بلکہ خوش آمدید کہتا ہے اور سچی رجوع و انابت پر تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ آغا سید باقر حسینی نے زور دے کر کہا کہ دین ہمیں خوف کے ساتھ امید بھی دیتا ہے اور مؤمن وہ ہے، جو نہ مایوس ہوتا ہے اور نہ مغرور۔

انہوں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی عبادتوں، نمازوں، زیارتوں، مجالس، تبرکات اور نیکیوں پر ناز اور فخر نہ کریں، کیونکہ عبادت پر غرور عبادت کو ضائع کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ریا ایک خطرناک روحانی بیماری ہے۔ عبادت اگر اللہ کے لیے نہ ہو بلکہ لوگوں کو دکھانے، تعریف سننے یا سماجی مقام بڑھانے کے لیے ہو تو وہ عبادت بے وزن ہو جاتی ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ ریا چھپا ہوا شرک ہے، جو انسان کی ساری محنت کو ضائع کر دیتا ہے۔ مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی نیکی کو چھپاتا ہے اور اللہ کے حضور عاجزی اختیار کرتا ہے، کیونکہ قبولیت کا معیار عمل کی کثرت نہیں بلکہ اخلاص ہے۔ آخر میں آغا باقر حسینی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معرفتِ اہلِ بیت علیہم السلام، خلوصِ نیت، حقوق العباد کی ادائیگی اور اپنی عبادتوں کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کو ضائع کر دیتا ہے اپنی عبادتوں میں آیا ہے کرتے ہوئے کرتے ہیں انہوں نے یہ ہے کہ اللہ کے کے لیے ہے اور کہا کہ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں