پنجاب حکومت، تعلیم کیلئے 46 ارب روپے فنڈزمختص، ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
لاہور (نیوزڈیسک) ہر شہری کو تعلیم یافتہ بنانا ریاست کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، اس وقت بھی ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ ہر شہری کو تعلیم یافتہ بنانا ریاست کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، اس وقت بھی ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔
آبادی کے تناسب سے پچھلی دو دہائیوں سے تعلیم سے محروم بچوں کے اعداد و شمار یہی ہیں تاہم موجودہ پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ تعلیم کے لئے ریکارڈ فنڈ مختص کئے ہیں اور تعلیم کا بجٹ 17 ارب سے بڑھا کر 46 ارب روپے کر دیا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے اپنے طلبا پر فی کس دس سے ساٹھ ہزار روپے فی ہفتہ خرچ کرتے ہیں جبکہ سرکاری ادارے جہاں 97 فیصد بچے پڑھتے ہیں ان میں سالانہ فی کس پچیس سے تیس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ایسے میں سرکاری اداروں کے بچے نجی اداروں کے طلبا سے کیونکر مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ملک احمد خان نے کہا کہ نجی اداروں کو چاہئے کہ تعلیمی مساوات کے لئے اپنے وسائل بروئے کار لائیں۔
انہوں نے ڈگری حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارا مستقبل ہیں، آج آپ اپنے اپنے شعبے کی اعلیٰ تعلیم لے کر فارغ التحصیل ہو رہے ہیں آپ کو چاہئے کہ اس ملک کی ترقی کے لئے اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
قبل ازیں اسپیکر پنجاب اسمبلی نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات میں ڈگریاں اور سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔