لاہور:(نیوزڈیسک)چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے سابق کپتان وسیم اکرم کو ایچ بی ایل پی ایس ایل کا برانڈ ایمبیسڈر مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔پی ایس ایل 11 میں ملتان سلطانز کو پی سی بی خود آپریٹ کرے گا، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل ختم ہونے کے بعد ملتان سلطانز کی نیلامی کریں گے، پی ایس ایل 11 میں ملتان سلطانز کو پی سی بی خود آپریٹ کرے گا، علی ترین اگر نئی ٹیم کی بولی میں کامیاب ہوں گے تو وہ ضرور ٹیم کے مالک بن سکتے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل کا آغاز اب 26 کے بجائے 23 مارچ سے کرنے کا سوچ رہے ہیں، یہ فیصلہ تمام فرنچائز کی مشاورت سے کریں گے۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ وسیم اکرم پی ایس ایل کیلئے کام کرینگے اور 8 جنوری کو دو ٹیموں کی نیلامی کے دوران موجود ہوں گے۔ اب ساری توجہ آٹھ جنوری کودونئی ٹیموں کی بولی پر ہے۔ ہر جگہ سے بہت زیادہ دلچسپی ظاہرکی گئی ہے اور مجھے یقین ہے کہ بولی والے دن اچھی قیمت میں ٹیمیں فروخت ہوں گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کیلئے 10 پارٹیوں نے کوالیفائی کیا ہے جن کے درمیان 8 جنوری کو اسلام آباد میں نیلامی ہوگی۔

محسن نقوی نے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں کے انڈر 19 ایشیا کپ میں نامناسب رویے پر آئی سی سی کو خط لکھا ہے، اگر بھارتی کھلاڑی ہمارے ساتھ ہاتھ نہیں ملانا چاہتے تو ہمیں بھی ہاتھ ملانے کا شوق نہیں ہے، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو