خلائی میدان میں ایران کا تاریخی قدم، بیک وقت تین سیٹلائٹس خلا میں بھیج دیئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
یہ سیٹلائٹس جدید ترین ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت کے حامل ہیں۔ ان سیٹلائٹس میں ظفر 2، پایا اور کوثر 1.5 شامل ہیں۔ سیٹلائٹ کی لانچنگ کے موقع پر تہران میں خصوصی تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں ماہرین، یونیورسٹی طلباء نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ خلائی میدان میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ایران نے روسی راکٹ سویوز کے ذریعے بیک وقت تین جدید ترین سیٹلائیٹس کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دئیے ہیں۔ یہ سیٹلائٹس جدید ترین ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت کے حامل ہیں۔ ان سیٹلائٹس میں ظفر 2، پایا اور کوثر 1.
پایا (طلوع-3)
یہ سیٹلائٹ تقریباً 150 کلوگرام وزن کا حامل ہے اور یہ اب تک لانچ کیا جانے والا ایران کا سب سے بھاری مقامی سیٹلائٹ ہے۔ سیٹلائٹ پایا (طلوع-3) میں دو امیجنگ سینسر نصب ہیں، جن کی ریزولوشن میں 5 میٹر اور رنگین میں 10 میٹر ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی امیج پروسیسنگ الگورتھمز کے استعمال سے تصاویر کی درستگی 3 میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ایران میں پہلی بار (Mirror-based) امیجنگ ٹیکنالوجی اس سیٹلائٹ میں استعمال کی گئی ہے، جس کی بنیاد پر اسے اب تک کا سب سے جدید اور بھاری مقامی تصویری سیٹلائٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ تصویری معیار، امیجنگ دورانیہ، کوریج ایریا اور زمین تک ڈیٹا ترسیل کی رفتار کے لحاظ سے پایا (طلوع-3)، پہلے لانچ ہونے والے نینو اور مائیکرو سیٹلائٹس کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر اور منفرد ہے۔
پایا سیٹلائٹ (طلوع 3) آپریشنل تصویر کے معیار، امیجنگ کا دورانیہ، امیجنگ ایریا سائز، اور زمین پر موصول ہونے والی تصاویر بھیجنے کی شرح کے لحاظ سے پہلے لانچ کیے گئے سیٹلائٹس (جن میں سے سبھی نینو سیٹلائٹ اور مائیکرو سیٹلائٹ کلاسز میں تھے) کے مقابلے میں مکمل طور پر بہتر اور الگ ہے۔ اسپیس پروپلشن سب سسٹم (چمران 1 سیٹلائٹ کی طرح) کا استعمال کرتے ہوئے، یہ سیٹلائٹ خلا میں اپنے مدار کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو آپریشنل سیٹلائٹس کے لیے ضروری ہے اور سیٹلائٹ کے لیے کم از کم تین سال کی مداری زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس سیٹلائٹ کے 80 فیصد سے زائد آلات اور ذیلی نظام مقامی طور پر تیار کیے گئے ہیں، جن کی ترقی میں ملک کے دانشوروں اور نجی شعبے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، پایا (طلوع-3) کی تیاری کے دوران حاصل کی گئی ٹیکنالوجیز مستقبل کے زیادہ دقیق تصویری سیٹلائٹس کے لیے اعلیٰ اعتماد کے حامل مشترکہ پلیٹ فارم کی بنیاد فراہم کریں گی۔
سیٹلائٹ "ظفر-2"
سیٹلائٹ ظفر-2 ایران کے سینسنگ سیٹلائٹس میں سے ایک ہے، جسے ایران اسپیس آرگنائزیشن کے حکم پر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایران نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ LEO ( Low Eearth Orbit) (زمین کے قریب مدار) میں نصب کیا جائے گا۔ ظفر-2 کی تیاری کا بنیادی مقصد خلائی نظاموں کے ڈیزائن، انضمام اور سینسنگ امیجنگ میں مقامی صلاحیتوں کی ترقی ہے۔ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے یہ 100 تا 135 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ ہے، جس میں ہلکے وزن کی ایلومینیم ساخت استعمال کی گئی ہے، جو تناؤ اور ارتعاش کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، تاکہ لانچ کے دوران پیدا ہونے والے جھٹکوں اور ارتعاش کو برداشت کیا جا سکے۔ یہ سیٹلائٹ شمسی پینلز اور خلائی معیار کی لیتھیم آئن بیٹریوں سے لیس ہے۔ اس کا نمایاں نظام سمت و کنٹرول (ADCS) ہے، جس میں جائروسکوپ، میگنیٹومیٹر، سورج سینسر، ری ایکشن وہیلز اور میگنیٹوریکٹر شامل ہیں، جو تین محوری کنٹرول اور دقیق اسٹیبلائزیشن کو ممکن بناتے ہیں۔ مشن کے لحاظ سے ظفر ایک آپٹیکل امیجنگ کیمرہ سے لیس ہے، جو قدرتی وسائل کی نگرانی، زراعت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ماحولیاتی مطالعات میں استعمال ہوگا۔ ڈیٹا کو ایس بینڈ ٹیلی کمیونیکیشن لنک کے ذریعے گراؤنڈ اسٹیشن پر منتقل کیا جائے گا۔
کوثر 1.5 سیٹلائٹ
کوثر 1.5 سیٹلائٹ، جو کہ نالج بیسڈ کمپنی "امید فضا" کا تیسرا سیٹلائٹ ہے، کو درست ریموٹ سینسنگ امیجنگ اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کمیونیکیشن ماڈیول کے امتزاج سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسے زمین کی نگرانی، زراعت اور تجارتی خلائی ایپلی کیشنز کو فروغ دینے کے مقصد سے نچلے زمینی مدار (LEO) میں رکھا جائے گا۔ کوثر سیٹلائٹ کا دوسرا ماڈل (کوثر 1.5) امید فضا کمپنی کا تیسرا سیٹلائٹ ہے، جسے کوثر کے پہلے ماڈل اور "ہدہد" سیٹلائٹس کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے اور زمین کی نگرانی اور سیٹلائٹ مواصلات دونوں شعبوں میں نمایاں اپ گریڈ کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ بھی ایک جدید کیوب سیٹ (CubSats) معیار پر مبنی سیٹلائٹ ہے۔
کوثر 1.5 سیٹلائٹ میں RGB اور NIR سپیکٹرا میں امیجنگ پے لوڈ اور ایک انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کمیونیکیشن ماڈیول شامل کیا گیا ہے، تاکہ بیک وقت خلائی امیجنگ اور تقسیم شدہ زمینی سینسرز سے ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مدد ملے۔ یہ دوہرے مقصد کا ڈیزائن سیٹلائٹ کو ماحولیاتی نگرانی اور سمارٹ انفراسٹرکچر دونوں شعبوں میں استعمال کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، اس سیٹلائٹ کو زراعت، آبی وسائل، ماحولیات اور زمین کی نگرانی جیسے تجارتی اور شہری استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کوثر کا ADCS سسٹم جدید الگورتھم کا استعمال کرتا ہے۔ مواصلات کے سلسلے میں کوثر سیٹلائٹ زیادہ مقدار میں ریموٹ سینسنگ تصاویر کو زمین پر منتقل کرنے کے لیے زیادہ ڈیٹا ریٹ والے ڈیٹا لنکس استعمال کرتا ہے۔ یہ خصوصیت کوثر کو اقتصادی افادیت اور ڈیٹا پر مبنی خدمات کے قریب لاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیٹلائٹ کی سیٹلائٹ ہے یہ سیٹلائٹ کے لحاظ سے کیا گیا ہے کی نگرانی اور زمین جائے گا کے ساتھ کوثر 1 5 کی گئی کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔