انسانی صحت کا راز: محمدؐ کے قدموں میں
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-03-5
امیر محمد کلوڑ
اس کالم کے ذریعے میں اپنے کالموں کی ایک نئی اور فکری سیریز کا آغاز کر رہا ہوں۔ اس سلسلے میں ان اعمالِ مبارکہ کو موضوع بنایا جائے گا جن پر سیدنا محمد مصطفیؐ نے اپنی عملی زندگی میں مستقل عمل فرمایا، اور جنہیں آج اکیسویں صدی کے جدید سائنس دان، ماہرین ِ صحت اور محققین نہ صرف تسلیم کر رہے ہیں بلکہ انسانی صحت، طویل عمر اور ذہنی سکون کے لیے نہایت مفید قرار دے رہے ہیں۔ یہ کالم اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے، جس میں سیرتِ نبوی کے ایک ایسے سادہ مگر ہمہ گیر عمل پر روشنی ڈالی جائے گی جو آج جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں ایک مکمل طرزِ زندگی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اکیسویں صدی کا انسان جب صحت، طویل عمر اور ذہنی سکون کے راز ڈھونڈنے جدید سائنس کی طرف دیکھتا ہے تو اسے ایک نہایت سادہ مگر طاقتور نسخہ ملتا ہے: Brisk Walk یعنی تیز قدموں سے چلنا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جس عمل کو آج دنیا کے بڑے بڑے ماہرین ِ صحت، کارڈیالوجسٹ اور فزیالوجسٹ انسانی صحت کی بنیاد قرار دے رہے ہیں، وہ عمل ہمارے پیارے نبی سیدنا محمدؐ نے آج سے پندرہ سو سال پہلے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا ہوا تھا۔ سیرتِ رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کا چلنا عام لوگوں سے مختلف تھا۔ صحابہ کرامؓ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہؐ جب چلتے تو ایسے معلوم ہوتا جیسے ڈھلوان سے اُتر رہے ہوں یعنی نہ سستی، نہ کاہلی، نہ بے جا ٹھیراؤ۔ یہ انداز آج کی اصطلاح میں بعینہٖ Brisk Walk کہلاتا ہے۔
سیدنا علیؓ فرماتے ہیں: ’’نبی کریمؐ نہ آہستہ چلتے تھے اور نہ تکبر سے، بلکہ قدم مضبوط اور رفتار متوازن ہوتی تھی‘‘۔ یہ وہی رفتار ہے جسے آج ماہرین ِ صحت دل، پھیپھڑوں اور عضلات کے لیے بہترین قرار دیتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO)، ہارورڈ میڈیکل اسکول اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ 30 منٹ کی برسک واک: دل کی بیماریوں کے خطرات میں 40 فی صد تک کمی کرتی ہے۔ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔ دماغی تناؤ اور ڈپریشن کم کرتی ہے، یادداشت بہتر بناتی ہے۔ انسانی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔ مشہور برطانوی کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر ولیم براؤن کے مطابق: ’’Brisk walking is the closest thing to a wonder drug for the human body.
مشہور امریکی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب ’’The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History‘‘ میں سیدنا محمدؐ کو تاریخ کی سب سے مؤثر شخصیت قرار دیتے ہوئے لکھا کہ آپؐ کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ آپؐ کی تعلیمات صرف نظری نہیں بلکہ عملی تھیں یعنی لوگ انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں آسانی سے اپنا سکتے تھے۔
آج جب دنیا مصنوعی دواؤں، جم مشینوں اور مہنگے علاج کی طرف بھاگ رہی ہے، وہاں نبی کریمؐ کی سادہ سنت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صحت کا راز فطرت سے ہم آہنگ زندگی میں پوشیدہ ہے۔ برسک واک کوئی نئی ایجاد نہیں، بلکہ یہ اس سنت کی جدید سائنسی تشریح ہے جس پر رسول اللہؐ اور صحابہ کرامؓ صدیوں پہلے عمل کر چکے تھے۔ یہی نبی کریمؐ کی سیرت کا معجزہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ مزید واضح، زیادہ قابل ِ فہم اور زیادہ ضروری ہوتی جا رہی ہے۔ جب انسان تھک کر لیبارٹریوں، ادویات اور مہنگے علاج سے نظریں چرا لیتا ہے تو آخرکار وہ فطرت کی طرف لوٹتا ہے اور فطرت اسے سیرتِ محمدیؐ کی دہلیز پر لا کھڑا کرتی ہے۔ ہم آج جس صحت کو تحقیق کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل اْس سنت کی بازگشت ہے جسے رسولِ اکرمؐ نے اپنے عمل سے زندہ کیا۔ آپؐ کے قدموں کی وہ متوازن رفتار آج بھی انسانیت کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ شفا سادگی میں ہے، نجات اعتدال میں ہے اور زندگی حرکت میں ہے۔ یہ سوچ کر دل لرز جاتا ہے کہ ہم نے کتنی دیر بعد وہ سچ پہچانا جو ہمارے نبی نے ہمیں بغیر کسی دعوے کے عطا کر دیا تھا۔ سوال یہ نہیں کہ سائنس نے کیا ثابت کیا، سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے نبی کے نقش ِ قدم پر چلنے میں کتنی کوتاہی کی؟ اور سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ جو ہمارے تبلیغی بھائی کہتے ہیں کہ ارادے پر بھی ایک نیکی ملتی ہے ، تو جب آپ یہ Brisk walk سنت نبویؐ، سمجھ کر کریں گے تو آپ کو ہر قدم پر ایک نیکی ملے گی۔ آپ کی ورزش کی ورزش اور نیکی کی نیکی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زندگی میں کرتی ہے رہے ہیں رہی ہے
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔