نشست کے اختتام پر استادِ حوزہ، حجت الاسلام والمسلمین فدا علی حلیمی نے دوستان کی تقاریر پر نقد و بررسی کی، مفید تجاویز پیش کیں اور اس علمی و فکری نشست کے تسلسل کو سنتِ حسنہ قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حوزۂ علمیہ میں بعض افراد آفاقی، عہدساز اور مؤثر بنتے ہیں اس کی وجہ وہ اپنے آفاقی، عہد ساز افکار کے ساتھ عملی اقدام کو بھی اختیار کرتے ہیں، رپورٹ: عارف بلتستانی arifbaltistani125@gmail.

com    ایک علمی و فکری نشست گروہ دورہ مطالعاتی منظومہ فکری رہبری کی جانب سے جامعہ روحانیت بلتستان شعبہ پژوہش کی تعاون سے فاطمیہ ہال میں منعقد ہوئی۔ یہ نشست جدید طرز پر منعقد ہوئی جس میں علمی، فکری اور نظریاتی مباحث کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ معروف قلم کار شیخ بشیر دولتی نے نظامت کے فرائض انجام دیے جبکہ برادر عارف حسین نے تلاوتِ کلامِ پاک سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ نشست کے پہلے مقرر برادر ثاقب حسن تھے جنہوں نے رہبر معظم کی نگاہ میں روحِ توحید پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مقامِ معظمِ رہبری نے خشک اور محض مقدس اعتقادات کے بجائے توحید کو معاشرتی زندگی میں عملی نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔ رہبر معظم رہبانیت کی انفرادی فکر کے مخالف ہیں اور دین کو اجتماعی و سماجی تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے توحید کے دو پہلو بیان کیے۔ ایجابی پہلو، جس میں صرف خداوندِ لایزال کو ماننا، اور سلبی پہلو، جس میں انسان کے خودساختہ تمام خداؤں کی نفی شامل ہے۔   اس کے بعد برادر منیر احمد شگری نے رہبر کی نگاہ میں توحید کے نفسیاتی و روانی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نفسیاتی اثرات کو سمجھنے کے لیے پہلے خود توحید اور اس کے ایمان کے ساتھ تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے عامیانہ توحید اور رہبر معظم کی نگاہ میں توحید کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ عامیانہ توحید تقلیدی اور تعصبی ہوتی ہے، جبکہ رہبر معظم کے نزدیک توحید آگاہی، ذمہ داری اور تعہد کے ساتھ تمام باطل خداؤں کی نفی اور خدائے حقیقی کی عبادت کا نام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نہ ڈرنا، ناامید نہ ہونا اور بشارتیں ملنا توحید کے اہم نفسیاتی اثرات ہیں۔   تیسرے مقرر مولانا اجاگر حسین تھے جنہوں نے رہبر کی نگاہ میں اصل مسئلے کی تشخیص کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصلحین اور مفکرین کی کامیابی کا راز مسئلے کی درست تشخیص اور ترجیحات کے تعین میں پوشیدہ ہے۔ رہبر معظم کی زندگی میں دیکھیں تو تشخیصِ مسئلۂ اصلی آپکی کی زندگی اور فکر کا قطب نما ہے۔ انہوں نے رہبر معظم کی کتاب طرحِ کلی سے ایک اقتباس پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضروری، زیادہ ضروری اور فوری مسائل کی درست پہچان ہی فکری و عملی کامیابی کی بنیاد ہے۔   ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ درست باتوں میں سے کون سی بات ضروری ہے؟ اور ضروری باتوں میں کون سی زیادہ ضروری ہے؟ اور زیادہ ضروری باتوں میں کون سی فوری نوعیت کی ہے؟ اور فوری باتوں میں کون سی جان و زندگی سے متعلق ہے؟ سب سے پہلے ہمیں اسی کو اختیار کرنا چاہیے۔ پھر جب ہمیں کچھ فراغت حاصل ہو جائے تو بعد کے مباحث کی طرف بڑھیں، اور اسی ترتیب سے آگے بڑھتے جائیں، یہاں تک کہ آخرکار ان مباحث تک پہنچیں جو اگرچہ درست تو ہیں، مگر ان کی ضرورت اور اہمیت اس درجے کی محسوس نہیں ہوتی۔"* (طرح کلی، ص 385)   نشست کے اختتام پر استادِ حوزہ، حجت الاسلام والمسلمین فدا علی حلیمی نے دوستان کی تقاریر پر نقد و بررسی کی، مفید تجاویز پیش کیں اور اس علمی و فکری نشست کے تسلسل کو سنتِ حسنہ قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حوزۂ علمیہ میں بعض افراد آفاقی، عہدساز اور مؤثر بنتے ہیں اس کی وجہ وہ اپنے آفاقی، عہد ساز افکار کے ساتھ عملی اقدام کو بھی اختیار کرتے ہیں، اور رہبر معظم اس کی روشن ترین مثال ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ہم بھی آفاقی و مؤثر شخصیات کی منظومۂ فکری کا دقیق مطالعہ کریں اور اسی کے مطابق زندگی گزاریں تو ہم بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، ورنہ زندگی کشکول کی مانند بکھری ہوئی رہ جاتی ہے۔   مزید گفتگو میں انہوں نے رہبر کی نگاہ میں توحیدِ عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم کی انفرادی، اجتماعی، سیاسی اور معاشرتی زندگی توحیدِ عملی کا واضح مظہر ہے۔ انقلابِ اسلامی، استعمار ستیزی، مقاومت و استقامت اور عدالت خواہی توحیدِ عملی کی روشن مثالیں ہیں۔ تمام مسائل کا حل توحید میں ہے جبکہ توحید سے انحراف تمام مشکلات کی بنیاد ہے۔ دنیا کے موجودہ فسادات کی تین بنیادی وجوہات جہالت، انانیت اور غفلت ہیں۔ آخر میں خدائے حقیقی اور خدائے خیالی کے فرق کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر عبادت انسان کو عاجزی کی طرف لے جائے تو وہ خدائے حقیقی کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اگر عبادت کے بعد تکبر پیدا ہو تو یہ خدائے خیالی کی علامت ہے۔ اس شعور کے ساتھ عبادت رسم نہیں بلکہ انسان کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کا سبب بن جاتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علمی و فکری نشست رہبر معظم کی کی نگاہ میں باتوں میں توحید کے انہوں نے کے ساتھ نشست کے کہا کہ اور اس کون سی

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان

لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان