فیلڈ مارشل کا نام سن کر مودی چھپ جاتا ہے، 9مئی کے حملے اداروں کو گالیاں سیاست نہیں:بلاول
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
لاڑکانہ (بیورو رپورٹ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے ملک کے تمام سیاسی جماعتوں کو مفاہمت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں سب کو مل کر پاکستان کو معاشی اور سیاسی بحران سے نکالنا ہوگا کیونکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا آخری پیغام مفاہمت کا تھا، سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے ہمیں اسی راستے پر چلنا ہو گا، سیاسی انتہاپسندی ترک کرنا ہو گی۔ سیاسی کارکنوں کو سیاسی دائرے میں واپس لانا ہو گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گڑھی خدابخش بھٹو میں سابق وزیراعظم پاکستان شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی کے موقع پر بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی جیسے حملے‘ اداروں کو گالیاں سیاست نہیں‘ مفاہمت کیلئے سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہو گا۔ اگر پاکستان کو بحرانوں سے نکالنا ہے تو سیاسی قوتوں کو ذمہ دار سیاست کرنا ہوگی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے اگر کسی ایک شخصیت پر اعتماد ہے تو وہ صدر آصف علی زرداری ہیں، جو مفاہمت کے علمبردار ہیں، امید ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے، انہوں نے کہا کہ 18 سال گزر چکے ہیں، ان قوتوں، قاتلوں اور دہشت گردوں کے لیے سب سے بڑا جواب آپ ہیں، جو ہر سال پاکستان کے چاروں صوبوں سے بڑی تعداد میں یہاں جمع ہو کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کل بھی بی بی زندہ تھیں۔ ہم آپ کی محبت اور ساتھ کے شکر گزار ہیں، اسی محبت اور ساتھ سے آپ کو طاقت ملتی ہے، اور ہم اس طاقت کو اسلام آباد لے جا کر آپ کے مسائل کے حل کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال گزر چکا ہے، جب ہم یہاں جمع ہوئے تھے تو پاکستان اور آپ کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ مئی کے مہینے میں ہماری فوج، ائیر فورس، نیوی اور پاکستانی قوم نے بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی۔ یہ فتح یقیناً پورے پاکستان، عوام کی فتح ہے، اس فتح کے بعد پاکستان کو پوری دنیا میں مقبولیت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ یہ فتح گڑھی خدابخش بھٹو کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہیں تھی، گڑھی خدا بخش بھٹو کی قربانیوں کی بدولت پاکستان ایٹمی طاقت بنا، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی وجہ سے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی ملی اور ہم نے اپنے دفاع کو مضبوط کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے چین سے وہ جنگی طیارے حاصل کیے جنہوں نے بھارت کے چھ جہاز مار گرائے اور اس جنگ میں کامیابی حاصل کی۔ پاک چین دوستی سب سے مضبوط دوستی ہے، جس کی بنیاد شہید قائدِ عوام نے رکھی اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اسے آگے بڑھایا، صدر زرداری نے سی پیک کی بنیاد رکھ کر اس دوستی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی اور بھارت آج تک اس کو ہضم نہیں کر سکا، بھارت کا وزیرِاعظم ہمارے ملک کے فیلڈ مارشل کا نام سن کر چھپ جاتا ہے، دنیا کے بڑے بڑے فورمز، اقوامِ متحدہ یا دیگر عالمی فورمز جہاں بھارت کا وزیرِاعظم جا کر پاکستان کے خلاف تقاریر کرتا تھا، مئی کی چند راتوں کے بعد وہ غائب ہو گیا، یہ فوج، ائیر فورس، نیوی اور عوام کی عظیم کامیابی ہے۔ میں آپ سب کو اس پر مبارکباد دیتا ہوں، جب تک وفاق اور ملک کو معاشی مشکلات درپیش ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو چاروں صوبوں کی زنجیر تھیں اور پیپلز پارٹی ہمیشہ وفاق اور صوبوں کے درمیان سنجیدہ سیاست کرتی آئی ہے، بہتر یہ ہے کہ وفاق صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دے اور ہم یہ ذمہ داریاں لینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس جمع کرنے کی ذمہ داری وفاق کی ہے، وفاق کو چاہیے کہ صوبوں کے ساتھ بیٹھ کر انہیں مزید اختیارات دے تاکہ وہ زیادہ ٹیکس جمع کر سکیں۔ گیپکو اور سیپکو جیسے اداروں کا بوجھ وفاق کو اپنے کندھوں سے اتار کر صوبوں کو منتقل کرنا چاہیے۔ ان شاءاللہ ہم بہتر کارکردگی دکھائیں گے، حیدرآباد اور سکھر کے عوام کی شکایات دور کی جائیں گی، پیپلز پارٹی وفاق کے ساتھ مل کر ان مسائل کا حل نکالے گی، ہمیں سب کو مل کر پاکستان کی معاشی مشکلات کا حل نکالنا ہو گا، وفاقی حکومت کہتی ہے کہ معیشت ترقی کر رہی ہے، میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو بتاتا ہوں کہ خان صاحب کے دور میں مہنگائی عروج پر تھی، اب حالات بہتر ہوئے ہیں اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا گیا ہے، عوام حکومتی دعووں کو پوری طرح قبول نہیں کرتے، وہ پوچھتے ہیں کہ معاشی ترقی انہیں کب محسوس ہو گی، حقیقت یہ ہے کہ عوام کے لیے کچھ بہتری ضرور آئی ہے، مگر پاکستان اب بھی معاشی بحران سے گزر رہا ہے، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے خلاف جدوجہد جاری ہے، بجلی، گیس، راشن، ادویات، بچوں کی تعلیم اور بزرگوں کے علاج کے اخراجات ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں، لوگ محنت تو کرتے ہیں مگر تنخواہ کافی نہیں ہوتی، یہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ قوتِ خرید کا بحران ہے، عوام کے پاس آمدن کم اور ضروریات زیادہ ہیں، یہ باعزت زندگی گزارنے کا بحران ہے۔
لاڑکانہ‘ اسلام آباد (بیورو رپورٹ + اپنے سٹاف رپورٹر سے+نمائندہ خصوصی) صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر کسی نے ہماری گریبان پر ہاتھ ڈالا تو ہم اسے ویسے ہی تھپڑ ماریں گے جیسے بھارت کو مارے اور جو بھی ہماری دھرتی کو میلی آنکھ سے دیکھے گا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس ایسا چیف موجود ہے، ان خیالات کا انہوں نے گڑھی خدابخش بھٹو میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 18 ویں برسی کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ یہ دن شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت اور پاکستان کو پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بچانے کا دن ہے۔ اسی دن پیپلز پارٹی نے پاکستان کو بچایا تھا، یہ بات میں نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی روح کہہ رہی تھی جو میں نے کہی، الحمدللہ پاکستان بچ گیا اور آگے بڑھ گیا، پاکستان قیامت تک قائم رہے گا، ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں یہ موقع دیا کہ ہم نے فوج کا ایسا سربراہ بنایا جس نے حکومت کی نگرانی میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں، مودی کو سمجھ آ گئی کہ یہ مذاق نہیں، پاکستان پاکستان ہے اور ہم مسلمان ہیں، ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں، آپ شکر کریں کہ لوگوں اور دنیا نے آپ کا لحاظ کیا، ورنہ آپ کو معلوم ہو جاتا کہ ہم وکرم سمیت ان کے سارے جہاز بھی گرا سکتے تھے، مگر ہمارے چیف اور ایئر فورس چیف نے ان پر کچھ رحم کیا، اگر دوبارہ کسی نے میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھا تو یہ یاد رکھے کہ آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی، شہید بھٹو اور شہید بی بی کے وارث موجود ہیں، ہم سب جنگ کے میدان کے لیے تیار ہیں، انہوں کہا کہ ہم ہتھیار اٹھا کر لڑنے اور اپنی جان قربان کر کے مادرِ وطن کو بچانے کے لیے تیار ہیں، آپ بھول گئے کہ ہمارے پاس روٹی بھی ہے اور گولی بھی، ہم گولیاں چلانا جانتے ہیں، آپ کیا گولیاں چلائیں گے؟ آپ کی ٹانگیں چار دن بھی نہ ٹک سکیں، آپ چار دن جنگ نہ لڑ سکے، اتنی بڑی معیشت اور دعوو ں کے باوجود وہ حوصلہ اور جگر کہاں سے لائیں گے جو ہمارے چیف، صدر، وزیرِاعظم، چیئرمین، ایئر فورس چیف اور آرمی چیف کے پاس ہے، اس کے لیے دل، جان اور شہادت کی تمنا رکھنی پڑتی ہے اور اپنے لیے شہادت کی دعا کرنی پڑتی ہے، میرے ایم ایس نے کہا کہ جنگ شروع ہو چکی ہے، میں نے اسے چار دن پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جنگ ہونے والی ہے، اس نے کہا بنکر میں چلتے ہیں، میں نے کہا لیڈر بنکر میں نہیں بیٹھتے بلکہ میدان میں جان دیتے ہیں، ہم سب تیار ہیں، اگر پاکستان اور دھرتی ماں کو ضرورت پڑی تو ہم اپنی جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بی بی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو، حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان کے طور پر بچانا ہے، اور ہم سب کو بھی بچانا ہے، جب بھی میں جیل گیا تو میں نے کبھی نہیں کہا کہ کارکنوں کو نکالو، بلکہ کہا کہ کارکنوں کا خیال رکھا جائے، میں اکیلا ہی ان کا مقابلہ کروں گا، یہ سوچ، دماغ اور دل مجھے بی بی صاحبہ سے ملا، ہم اور پیپلز پارٹی اکیلے ہی دشمن کے لیے کافی ہیں، جب بی بی نے حکم دیا ہم نے وہاں جھنڈا گاڑھا، آج بھی ہم اسی جھنڈے کے سائے میں چل رہے ہیں اور ان شاءاللہ چلتے رہیں گے، ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی راستے پر چلتی رہیں گی، کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی جگہ ڈالے جہاں جنگ ہو، مگر ہمیں کوئی خوف نہیں، اگر ضرورت پڑی تو ہم جنگ کریں گے اور ہماری آنے والی نسلیں بھی کریں گی، ہماری نیوی، ایئر فورس اور آرمی چیف بھارتی فوج کے دانت کھٹے کر دیں گے۔ اس کا بندوبست ہم نے اور بی بی صاحبہ نے پہلے ہی کر رکھا تھا، ہم میں اتنی سوچ اور سمجھ ہے کہ ہم پاکستان کا دفاع کر سکتے ہیں۔ اگر دفاعی طاقت نہ ہو تو دشمن ہمیشہ میلی آنکھ سے دیکھتا ہے، اس لیے مضبوط دفاع سب سے بڑی طاقت ہے، بھارتی جہازوں کو آسمان میں ہماری ایئر فورس نظر آئی اور ہماری ایئر فورس کو حکم ملا، انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار سال میں ایک ناسمجھ شخص نے پوری دنیا سے تعلقات خراب کرکے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دیا، ہم نے آہستہ آہستہ پوری دنیا سے دوبارہ تعلقات بحال کیے ہیں، ان تعلقات میں جنرل عاصم منیر ہمارے ساتھ ہیں۔ آج ٹرمپ بھی کہتا ہے کہ فیلڈ مارشل آپ نے، پیپلز پارٹی نے اور پاکستان کے عوام نے بنایا ہے، آپ بے فکر ہو کر سو جائیں، میں آپ کے بچوں اور آنے والی نسلوں کا ضامن ہوں، ان شاءاللہ سب کے لیے بہتری کر کےدکھاو ں گا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سپیکر ایاز صادق‘ رانا ثناءاﷲ‘ طارق فضل چودھری سمیت ارکان اسمبلی بھی گڑھی خدا بخش گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے تیار ہیں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری پاکستان کو کر پاکستان پاکستان کے پوری دنیا ایئر فورس اور شہید ہیں کہ اور ہم
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔