پاکستان سمیت 21 مسلم ممالک نے اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکیہ سمیت 21 سے زائد مسلم ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے اسرائیلی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں اردن، مصر، الجزائر، قطر، کویت، نائیجیریا اور فلسطین سمیت دیگر ممالک کے وزراء خارجہ نے اسرائیل کے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ 26 دسمبر 2025 کو اسرائیل کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ غیر عمولی قدم ہارن آف افریقہ اور بحیرۂ احمر کے خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اس اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی ملک کے حصے کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
مسلم ممالک کے وزراء خارجہ کا موقف ہے کہ یہ عمل ریاستوں کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے عالمی اصولوں کے منافی ہے اور اسرائیل کے ’توسیع پسندانہ عزائم‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
اعلامیے میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی وحدت اور اس کے تمام علاقوں پر اس کی حاکمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے اور صومالیہ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو عالمی امن کے لیے ایک خطرناک مثال قرار دیا گیا ہے۔
اس اعلامیے کا ایک اہم پہلو اسرائیل کے اس اقدام کا فلسطین کے تناظر میں جائزہ لینا ہے۔ مسلم ممالک نے اس خدشے اور امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کا مقصد فلسطینی عوام کو ان کی اپنی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی کسی کوشش سے جڑا ہو سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کسی بھی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس مشاورت کے بعد جاری ہونے والے اس دستاویزی احتجاج نے واضح کر دیا ہے کہ مسلم امہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور عالمی قوانین کی بالادستی کے لیے متحد ہے۔
اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی لینڈ کو بطور ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فی الحال ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کرتے۔
واضح رہے کہ امریکا کا اہم اتحادی ملک اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو اسرائیل کے مسلم ممالک گیا ہے
پڑھیں:
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیےیہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔
نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثریہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعملامریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔
برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔
جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔
دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملیدریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔
امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔
ادارت: مقبول ملک