اسرائیل کا صومالی لینڈ کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان مسترد کرتے ہیں: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بیان میں کہا کہ ایسی غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور نہ صرف صومالیہ کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اقدام کو مسترد کرے اور اسرائیل کو خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے سے روکے۔
مسجدالحرام میں خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا رضا کون نکلا؟
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری اور استحکام کی تمام کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی بھی بلاشرط حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور جو 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو۔
دوسری جانب، سعودی عرب نے بھی صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی اور اسرائیل کے اعلان کو مسترد کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کی تجویز کی حمایت سے انکار کیا۔
"کلین لاہورمشن" اور"ڈویلپمنٹ پروگرام" پرعملدرآمد تیزی سے جاری
واضح رہے کہ اسرائیل وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو ریاست کے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔