کراچی میں جاری چار روہ تبلیغی اجتماع رقت آمیز دعاکیساتھ ختم
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-02-10
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) تبلیغی جماعت کے تحت چار روزہ کراچی اجتماع اتوار کو بیان اور رقت آمیز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔اجتماع گاہ شرکاسے آخری بیان و دعا سے قبل ہی بھر چکی تھی۔شرکانے اطراف کے مقامات پرکھڑے ہوکر بیان سنا اور دعا میں شرکت کی۔اتوار کو نماز فجر کے بعد مولانا ضیا الحق نے بیان کیا اوراور اختتامی دعامولانا احمد بٹلہ نے کرائی۔علمائے کرام نے بیان اور دعا میں کہا کہ اللہ تعالیٰ مملکت پاکستان کو شاد وآباد رکھے۔ملک کے مسائل کو حل فرمائے۔انہوں نے کہا کہ معاشی وتمام پریشانیوں کا حل دین اسلام نے دیا یے۔اس پر عمل کریں۔موت سے قبل اس کی تیاری کریں۔اسلام امن کا درس دیتا یے۔نمازوں کا اہتمام کریں۔اپنی زندگی کو دین کے مطابق گزاریں۔گناہوں کی معافی مانگیں۔تمام لوگوں کے حقوق کا خیال کریں۔تبلیغ کی دعوت دیں۔اپنی زندگی سادگی سے گزاریں۔فضول اخراجات اور کاموں سے بچیں۔نوجوان نسل دین کو سیکھے۔آخرت کی تیاری کریں۔اللہ ہم سب کی مشکلات کو حل فرمائے۔تمام بیماروں کو صحت دے۔آمین۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے والدین کی خدمت کریں اور اپنی اولاد کو بھی اس عمل کو سیکھائیں۔رب ہماری تمام دعائوں کو قبول فرمائے۔دین کے ساتھ جوڑنے کی توفیق دے۔آمین۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔