data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-04-11
کیونکہ بالوں کی صحت سے متعلق صنعت کی مالیت پانچ ارب اسی کروڑ پاؤنڈ ہے اور اس میں بے شمار مصنوعات، رجحانات اور ٹک ٹاک کے ٹرینڈز گردش میں ہیں جس کی وجہ سے بنیادی باتوں کو نظر انداز کرنا آسان ہوتا جا رہا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ صحت مند بال حاصل کرنے کے لیے زیادہ پیسہ خرچ کرنے یا پیچیدہ طریقے اپنانے کی ضرورت نہیں بلکہ سادہ اور بنیادی چیزوں کو درست طریقے سے کرنا ہی کافی ہے۔بہت زیادہ گرم پانی سے بال دھونا بھی ٹھیک نہیں، کیونکہ اس سے بال خُشک ہو سکتے ہیں اور آپ کے سر کی جلد جل سکتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے گرم پانی ہماری جلد کو جلا دیتا ہے۔اگر آپ تصور کریں کہ ایک بال ٹوٹ رہا ہے اور آپ اسے خوردبین کے نیچے دیکھیں تو وہ ایسے دکھائی دے گا جیسے اس کے دو یا تین اضافی سِرے بن گئے ہوں۔مارکیٹ میں دستیاب مصنوعات دراصل گلو یا گوند (چپکنے والے مادے) کی طرح کام کرتی ہیں یعنی وہ بالوں کو عارضی طور پر جوڑ دیتی ہیں تاکہ وہ بہتر نظر آئیں۔‘
اگر آپ بالوں کو باقاعدگی سے نہیں دھوتے تو ان سے بدبو آنے لگتی ہے اور گندے بالوں کی وجہ سے سر کی جلد کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے جیسے کے بالوں میں ڈینڈرف یا خشکی پیدا ہونے لگتی ہے۔ مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنے سر کی جلد کی دیکھ بھال بھی اسی طرح کریں جیسے آپ اپنے چہرے کی کرتے ہیں جیسے آپ میک اپ لگانے سے پہلے پرانا میک اپ صاف کیے بغیر دوبارہ نہیں لگاتے بلکُل ویسے ہی بالوں پر بار بار مصنوعات استعمال کرنے سے پہلے انھیں دھونا ضروری ہے۔
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔