مدارس دینیہ کی ازادی اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، مولانا فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ملتان میں کارکنان میں اعزازی شیلڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مدارس دینیہ کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے جو مدارس دینیہ کی آزادی، خودمختاری کو سلب کر کے کسی کے ماتحت کرنا چاہتے ہیں، ایسے کسی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ جمیعت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ دینی مدارس کے تحفظ کے لیے اتحاد تنظیمات کا اتحاد موجود ہے، مدارس کے تحفظ کے لیے ذمہ داری ادا کرتے رہیں گے اور مدارس کی رجسٹریشن میں رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے، آج ایک بار پھر مدارس کی بقا کا سوال پیدا ہو گیا ہے، حالیہ دنوں ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں متاثرین سیلاب زدگان کی امداد کے لیے دن رات جدوجہد کرنے والے جے یو آئی کے ذمہ داران و کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم گلگشت میں جے یو آئی ملتان کے سرپرست حافظ محمد عمر شیخ، ضلعی سیکریٹری اطلاعات رانا محمد سعید سمیت دیگر رہنماوں ملک جاوید اقبال کالرو، قاری محمد یاسین، مولانا محمد یوسف مدنی، مولانا طیب فرید، جے ٹی ائی کے صدر معین الدین کو متاثرین سیلاب زدگان کی خدمات کے اعزاز میں اعزازی شیلڈ کے موقع پر کیا۔
مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ مدارس دینیہ کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے جو مدارس دینیہ کی آزادی، خودمختاری کو سلب کر کے کسی کے ماتحت کرنا چاہتے ہیں، ایسے کسی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے، تنظیمات کا اتحاد موجود ہے جس کے اکابرین مدارس دینیہ کی آزادی اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات، سیلاب ہو یا زلزلہ یا پھر کوئی دوسری آفت آئے تو جے یو آئی کی مرکزی و صوبائی، ضلعی قیادت سمیت تمام ذمہ داران و کارکنان ہمہ وقت اپنی جانوں پر کھیل کر انسانی جانوں اور دیگر کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مدارس دینیہ کی جے یو آئی کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔