یمن کی علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کا تحفظ ضروری ہے، ایران
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
یمن کے قائم مقام وزیرِ خارجہ نے سید عباس عراقچی نے ملک کے جنوبی علاقوں میں حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے تازہ صورتحال سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات، جو یمن اور خطے کے دشمنوں کی جانب سے علاقے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کے مقصد سے ترتیب دیے گئے ہیں، موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ خارجۂ سید عباس عراقچی نے یمن کی حکومتِ تبدیلی و تعمیر کے قائم مقام وزیرِ خارجہ سے مشاورت کے دوران یمنی سیاسی جماعتوں اور تمام گروہوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ باہمی مکالمے اور تعاون کے ذریعے خطے کے دشمنوں کی جانب سے یمن کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یمن کی حکومتِ تبدیلی و تعمیر کے قائم مقام وزیرِ خارجہ عبدالواحد ابوراس اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں یمن کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یمن کے قائم مقام وزیرِ خارجہ نے ملک کے جنوبی علاقوں میں حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے تازہ صورتحال سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات، جو یمن اور خطے کے دشمنوں کی جانب سے علاقے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کے مقصد سے ترتیب دیے گئے ہیں، موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اس موقع پر وزیرِ خارجۂ ایران نے فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت اور صہیونی رژیم کی جارحیت کے مقابل یمنی عوام کی استقامت کو سراہتے ہوئے یمن کی علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے تمام یمنی سیاسی جماعتوں اور گروہوں سے مطالبہ کیا کہ وہ آپس میں گفت و شنید اور تعامل کے ذریعے خطے کے دشمنوں کی ان سازشوں کو ناکام بنائیں جو یمن کو کمزور کرنے اور اس کی تقسیم کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔
وزیرِ خارجۂ ایران نے یمنی فریقین اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق حالیہ معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ یمن کے بحران کا حقیقی حل مکمل محاصرہ ختم کرنے، روڈ میپ کے دیگر حصوں پر عملی پیش رفت اور یمنی-یمنی مذاکرات کے ذریعے ایک ایسی جامع حکومت کے قیام میں ہے جو یمن کی وحدت اور علاقائی یکجہتی پر مبنی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے قائم مقام وزیر خطے کے دشمنوں کی اور اس یمن کی
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ