یمن کے قائم مقام وزیرِ خارجہ نے سید عباس عراقچی نے ملک کے جنوبی علاقوں میں حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے تازہ صورتحال سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات، جو یمن اور خطے کے دشمنوں کی جانب سے علاقے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کے مقصد سے ترتیب دیے گئے ہیں، موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ خارجۂ سید عباس عراقچی نے یمن کی حکومتِ تبدیلی و تعمیر کے قائم مقام وزیرِ خارجہ سے مشاورت کے دوران یمنی سیاسی جماعتوں اور تمام گروہوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ باہمی مکالمے اور تعاون کے ذریعے خطے کے دشمنوں کی جانب سے یمن کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یمن کی حکومتِ تبدیلی و تعمیر کے قائم مقام وزیرِ خارجہ عبدالواحد ابوراس اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں یمن کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یمن کے قائم مقام وزیرِ خارجہ نے ملک کے جنوبی علاقوں میں حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے تازہ صورتحال سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات، جو یمن اور خطے کے دشمنوں کی جانب سے علاقے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے کے مقصد سے ترتیب دیے گئے ہیں، موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اس موقع پر وزیرِ خارجۂ ایران نے فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت اور صہیونی رژیم کی جارحیت کے مقابل یمنی عوام کی استقامت کو سراہتے ہوئے یمن کی علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے تمام یمنی سیاسی جماعتوں اور گروہوں سے مطالبہ کیا کہ وہ آپس میں گفت و شنید اور تعامل کے ذریعے خطے کے دشمنوں کی ان سازشوں کو ناکام بنائیں جو یمن کو کمزور کرنے اور اس کی تقسیم کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔
وزیرِ خارجۂ ایران نے یمنی فریقین اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق حالیہ معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ یمن کے بحران کا حقیقی حل مکمل محاصرہ ختم کرنے، روڈ میپ کے دیگر حصوں پر عملی پیش رفت اور یمنی-یمنی مذاکرات کے ذریعے ایک ایسی جامع حکومت کے قیام میں ہے جو یمن کی وحدت اور علاقائی یکجہتی پر مبنی ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے قائم مقام وزیر خطے کے دشمنوں کی اور اس یمن کی

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد