طاہر اشرفی نے ملا ملٹری الائنس کے سیاسی طنز کا جواب دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر اشرفی نے ملا ملٹری الائنس کے سیاسی طنز کا جواب دے دیا۔
جھنگ میں پریس کانفرنس کے دوران مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ ملا ملٹری الائنس کی بات کرنے والے سن لیں، اللّٰہ نے یہ الائنس فطری طور پر بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص میں کامیابی مورخ صدیوں تک لکھتا رہے گا، دنیا نے ہمیشہ اسلامی ممالک پر میزائل گرتے دیکھے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے مزید کہا کہ پہلی بار دنیا نے پاکستانی میزائل بھارت پر گرتے دیکھے، پاکستان کو اس وقت داخلی استحکام کی ضرورت ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے 70 فیصد حملوں میں افغانی ملوث ہیں، پاک فوج اور قوم مل کر دہشت گردی کو ختم کریں گے۔
مولانا طاہر اشرفی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنے سے 6 گنا بڑے ملک کو شکست دے سکتا ہے تو دہشت گردی کو بھی شکست دے سکتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی جسے قبول کر لینا چاہیے، فضل الرحمان ن لیگ کے حلیف رہے ہیں، مستقبل میں بھی حلیف ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طاہر اشرفی نے کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔