او پی ایف نے پاکستانیوں کی بہتری کے متعدد اقدامات کئے ہیں، افضل بھٹی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیرون ملک مقیم اور کام کرنے والے پاکستانیوں کو اپنے سماجی ، معاشی ، تعلیمی، صحت، ہاؤسنگ، صنعتی اور زندگی کے دیگر شعبوں میں درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سمندرپار پاکستانیوں کی بہتری فلاح وبہبود کے لئے قائم ادارہ اوورسیزپاکستانیزفاؤنڈیشن (او پی یف) سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ بات او پی ایف کے منجنگ ڈائریکٹرافضل بھٹی نے ایک عشائیہ میں کہی جس کا اہتمام ان کے اعزاز میں مقامی ہوٹل میں ملک گروپ آف کمپنی کے سی ای او ملک منطورحسین اعوان نے کیا تھا۔ اس باوقار تقریب میں چوہدری احسان الحق باجوہ پارلیمانی سیکرٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ نے خصوصی طور پو شرکت کی۔ افضل بھٹی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ او پی ایف نے سمندرپار پاکستانیوں کی بہتری اور ان کے مسائل کے حل کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کوان سےآگاہی ضروری ہے تاکہ وہ ان سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انھوں نے زور دیکر کہا کہ تمام پاکستانی زرترسیل کےلئے بنکوں کے ذریعہ اپنی رقوم پاکستان بھیجیں۔ ہنڈی کا طریقہ غیرقانونی ہے۔عشائیہ میں پاکستان قونصلیٹ جدہ کے افسران، انویسٹر فورم سے وابستہ تمام معزز کاروباری شخصیات، مسلم لیگی کارکنان، اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ CEO ملک گروپ آف کمپنیافضل بھٹی نے او پی ایف کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے اس سے قبل جدہ میں پاکستانی کمیونٹی کے ارکان کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کیا تھا۔ تقریب کا اہتمام قونصلیٹ جنرل پاکستان جدہ نے کیا تھا۔ افضل بھٹی نے شرکاء کو او پی ایف کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کے فائدے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے انہیں پاکستانی تارکین وطن کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ فاؤنڈیشن کی جانب سے شروع کی گئی مختلف اسکیموں سے استفادہ کریں۔ امیگریشن کے تحفظ کے ذریعے بیرون ملک ملازمت حاصل کرنے والے پاکستانی فاؤنڈیشن کی طرف سے پیش کردہ فوائد کے حقدار ہیں۔ کمیونٹی کے اراکین نے بچوں کی تعلیم، صحت ، انشورنش، وفات پانے والوں کوان کی میت پاکستان لیے جانے کے متعلق امور اور ائرپورٹ ایمبولنس کے مسئلہ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے خصوصی اسکیمیں تجویز کیں جو پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں اس سلسلے میں او پی ایف کے مکمل تعاون اور تعاون کا یقین دلایا۔قبل ازیں احمد فواد سواتی کی تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغازہوا۔ میزبان ملک منظورنے مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کے تعاون کو سراہا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرتے ہوئے مملکت اور دیگر خلیجی ریاستوں میں کارکنوں کے خیالات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرون ملک او پی ایف انہوں نے بھٹی نے کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔