Jasarat News:
2026-07-24@00:52:37 GMT

معیشت غیر ملکی قرضوں پر کب تک چلے گی؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسلم برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دورِ حکومت میں خلیجی ریاستوں کے ساتھ سفارتی، معاشی اور دفاعی تعاون کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ حالیہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا ایک روزہ سرکاری دورۂ پاکستان اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ شیخ محمد بن زاید النہیان کا شاندار اور تاریخی استقبال اس امر کی علامت تھا کہ پاکستان امارات کو محض ایک دوست ملک نہیں بلکہ ایک اہم معاشی اور تزویراتی شراکت دار سمجھتا ہے۔ یو اے ای کے صدر کی آمد پر ریاستی پروٹوکول، 21 توپوں کی سلامی اور اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کی موجودگی نے سفارتی سطح پر ایک واضح پیغام دیا ہے کہ بظاہر سب کچھ ٹھیک ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان شدید معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی اور عوامی اضطراب سے دوچار ہے۔ بلاشبہ اماراتی قیادت کا یہ دورہ پاکستان کے لیے وقتی طور پر معاشی آکسیجن ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب تک بیرونی سہاروں کے بل پر اپنی معیشت کو سنبھالتے رہیں گے؟ پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے، ان کی جڑیں محض عالمی حالات میں نہیں بلکہ اندرونی بدانتظامی، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور کمزور طرزِ حکمرانی میں پیوست ہیں۔ ملک میں ایسا لگتا ہے جبر کا ماحول ہے اور سیاست و سیاسی معاملات، یا معاشی معاملات کسی اور کے ہاتھوں میں ہیں۔ آئی ایم ایف پر انحصار اب ایک مجبوری سے بڑھ کر عادت بن چکا ہے۔ اگست 2022 میں آخری لمحوں میں بچ جانے والا ڈیفالٹ، اس بات کی واضح مثال ہے کہ ہم اصلاحات کے بجائے وقتی سہولتوں کو ترجیح دیتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سخت شرائط کے تحت نئے معاہدے کرنے پڑے اور قومی خودمختاری مزید محدود ہوتی چلی گئی۔ اس پورے عمل میں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک نے پاکستان کی مدد ضرور کی، لیکن یہ مدد بھی زیادہ تر ڈپازٹس اور قلیل مدتی سہولتوں تک محدود رہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہمیشہ دوسروں کے سہارے اپنی معیشت کو چلانے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ ایک خوددار قوم کے لیے یہ طرزِ عمل نہ تو قابل ِ فخر ہے اور نہ ہی پائیدار۔ سیاسی بحران اور معاشی جمود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب تک معیشت مستحکم نہیں ہوگی، سیاسی استحکام محض ایک خواب رہے گا، اور جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا، کوئی معاشی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس اہم موڑ پر بھی قومی اتحاد کے بجائے محاذ آرائی کا رجحان غالب ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ملکی قیادت کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ معاشی بحالی کا راستہ قربانی مانگتا ہے۔ یہ قربانی سب سے پہلے حکمران طبقات کو دینی ہوگی۔ جب تک اشرافیہ کے اخراجات کم نہیں ہوں گے، کرپشن کے خلاف عملی اقدامات نہیں ہوں گے اور ٹیکس نظام میں انصاف نہیں آئے گا، اس وقت تک قرضوں سے نجات ممکن نہیں۔ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ بھی معاشی بحالی کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ عدم تحفظ سرمایہ کاری کو روکتا ہے اور ترقی کی راہ میں دیوار بن جاتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جس اتحاد، تنظیم اور یقین ِ محکم کا درس دیا تھا، آج اس کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ معاشرے میں برداشت ختم ہو چکی ہے، مکالمہ ناپید ہے اور اختلاف دشمنی میں بدل چکا ہے۔ ایسے ماحول میں قومی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ قوم کو متحد کیے بغیر، سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھائے بغیر اور شفاف، دیانت دار قیادت کو آگے لائے بغیر ہم محض قرضوں کے دائرے میں گھومتے رہیں گے۔ اس وقت ضرور ت سے اہم اس بات کی ہے کہ ’’سیاست‘‘ سیاسی جماعتیں کریں اور انہیں کا کام ہے تاکہ ملک میں سیاسی بات چیت سے بات آگے بڑھ سکے معیشت بہتر ہوسکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وقتی معاشی سہاروں کے بجائے طویل المدتی خود انحصاری کو ہدف بنایا جائے۔ ورنہ سوال یہی رہے گا کہ ملکی معیشت غیر ملکی قرضوں پر آخر کب تک چلتی رہے گی؟

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نہیں ہو ہے اور

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف