معیشت غیر ملکی قرضوں پر کب تک چلے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسلم برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دورِ حکومت میں خلیجی ریاستوں کے ساتھ سفارتی، معاشی اور دفاعی تعاون کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ حالیہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا ایک روزہ سرکاری دورۂ پاکستان اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ شیخ محمد بن زاید النہیان کا شاندار اور تاریخی استقبال اس امر کی علامت تھا کہ پاکستان امارات کو محض ایک دوست ملک نہیں بلکہ ایک اہم معاشی اور تزویراتی شراکت دار سمجھتا ہے۔ یو اے ای کے صدر کی آمد پر ریاستی پروٹوکول، 21 توپوں کی سلامی اور اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کی موجودگی نے سفارتی سطح پر ایک واضح پیغام دیا ہے کہ بظاہر سب کچھ ٹھیک ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان شدید معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی اور عوامی اضطراب سے دوچار ہے۔ بلاشبہ اماراتی قیادت کا یہ دورہ پاکستان کے لیے وقتی طور پر معاشی آکسیجن ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب تک بیرونی سہاروں کے بل پر اپنی معیشت کو سنبھالتے رہیں گے؟ پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے، ان کی جڑیں محض عالمی حالات میں نہیں بلکہ اندرونی بدانتظامی، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور کمزور طرزِ حکمرانی میں پیوست ہیں۔ ملک میں ایسا لگتا ہے جبر کا ماحول ہے اور سیاست و سیاسی معاملات، یا معاشی معاملات کسی اور کے ہاتھوں میں ہیں۔ آئی ایم ایف پر انحصار اب ایک مجبوری سے بڑھ کر عادت بن چکا ہے۔ اگست 2022 میں آخری لمحوں میں بچ جانے والا ڈیفالٹ، اس بات کی واضح مثال ہے کہ ہم اصلاحات کے بجائے وقتی سہولتوں کو ترجیح دیتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سخت شرائط کے تحت نئے معاہدے کرنے پڑے اور قومی خودمختاری مزید محدود ہوتی چلی گئی۔ اس پورے عمل میں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک نے پاکستان کی مدد ضرور کی، لیکن یہ مدد بھی زیادہ تر ڈپازٹس اور قلیل مدتی سہولتوں تک محدود رہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہمیشہ دوسروں کے سہارے اپنی معیشت کو چلانے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ ایک خوددار قوم کے لیے یہ طرزِ عمل نہ تو قابل ِ فخر ہے اور نہ ہی پائیدار۔ سیاسی بحران اور معاشی جمود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب تک معیشت مستحکم نہیں ہوگی، سیاسی استحکام محض ایک خواب رہے گا، اور جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا، کوئی معاشی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس اہم موڑ پر بھی قومی اتحاد کے بجائے محاذ آرائی کا رجحان غالب ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ملکی قیادت کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ معاشی بحالی کا راستہ قربانی مانگتا ہے۔ یہ قربانی سب سے پہلے حکمران طبقات کو دینی ہوگی۔ جب تک اشرافیہ کے اخراجات کم نہیں ہوں گے، کرپشن کے خلاف عملی اقدامات نہیں ہوں گے اور ٹیکس نظام میں انصاف نہیں آئے گا، اس وقت تک قرضوں سے نجات ممکن نہیں۔ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ بھی معاشی بحالی کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ عدم تحفظ سرمایہ کاری کو روکتا ہے اور ترقی کی راہ میں دیوار بن جاتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جس اتحاد، تنظیم اور یقین ِ محکم کا درس دیا تھا، آج اس کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ معاشرے میں برداشت ختم ہو چکی ہے، مکالمہ ناپید ہے اور اختلاف دشمنی میں بدل چکا ہے۔ ایسے ماحول میں قومی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ قوم کو متحد کیے بغیر، سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھائے بغیر اور شفاف، دیانت دار قیادت کو آگے لائے بغیر ہم محض قرضوں کے دائرے میں گھومتے رہیں گے۔ اس وقت ضرور ت سے اہم اس بات کی ہے کہ ’’سیاست‘‘ سیاسی جماعتیں کریں اور انہیں کا کام ہے تاکہ ملک میں سیاسی بات چیت سے بات آگے بڑھ سکے معیشت بہتر ہوسکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وقتی معاشی سہاروں کے بجائے طویل المدتی خود انحصاری کو ہدف بنایا جائے۔ ورنہ سوال یہی رہے گا کہ ملکی معیشت غیر ملکی قرضوں پر آخر کب تک چلتی رہے گی؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار