برطانیہ میں سکھ کمیونٹی کا بنگلادیش کی حمایت میں بھارت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
برطانیہ میں سکھ کمیونٹی کا بنگلادیش کی حمایت میں بھارت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ WhatsAppFacebookTwitter 0 28 December, 2025 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس )برطانیہ میں سکھ کمیونٹی نے بنگلادیشی حکومت کے حق میں مظاہرہ کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن میں سکھ کمیونٹی نے بنگلادیشی ہائی کمیشن کے باہرجمع ہو کر بھارت کیخلاف مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے کہا کہ نوجوان طلبہ رہنما عثمان ہادی کا قتل انقلاب کا سبب بنے گا اور بھارت ٹکڑے ہوکر بکھرے گا۔
مظاہرین کا کہنا تھا مودی حکومت دنیا میں بھارت کا اصل چہرہ دکھانے والوں کے قتل میں ملوث ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل بنگلادیش میں حسینہ واجد حکومت کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والی طلبہ تحریک کے ترجمان عثمان ہادی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا اور پھر عثمان ہادی کچھ روز سنگاپور میں زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔عثمان ہادی کے انتقال پر بنگلادیش میں بھی بھارتی ہائی کمیشن کے ہاہر ہزاروں کی تعداد میں افراد نے مظاہرہ کیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہماری ریاست کسی کیلئے خطرہ نہیں،افغان وزیر داخلہ کا پاکستان سے مفاہمت کا اشارہ ہماری ریاست کسی کیلئے خطرہ نہیں،افغان وزیر داخلہ کا پاکستان سے مفاہمت کا اشارہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کی حمایت کرے، فیصل کریم کنڈی بھارت کے ساتھ سب برابری کی سطح پرہوگا، وہ ہینڈشیک نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ، محسن نقوی سی سی ڈی آن لائن فراڈ کرنے والوں کیخلاف کارروائی کریگی سہیل آفریدی کو لاہور میں نعروں کا جواب دینے والا کوئی نہیں ملا، عظمی بخاری پاکستان کا صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں سکھ کمیونٹی
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔