NLFحیدرآباد کی سوئی گیس کمپنی کی ناجائز منافع خوری کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل لیبر فیڈریشن حیدرآباد زون کے صدر عبد القیوم بھٹی، سینئر نائب صدر مبین راجپوت، جنرل سیکرٹری اعجاز حسین ، انفارمیشن سیکرٹری محمد احسن شیخ اور دیگر عہدیداران نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے غریبوں کی جیبوں پر فنکارانہ ڈاکہ ڈالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی کی نا جائز منافع خوری قرار دیا ہے۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کا بلوں کی ترسیل میں تاخیری ہتھکنڈے استعمال کرنے کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے لیکن گزشتہ کئی ماہ سے بلوں کی ترسیل اور آخری تاریخ میں ایک دو دن سے زیادہ قفہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بل مقررہ تاریخ پر جمع نہیں ہوتے اور آخری تاریخ گزرنے کے بعد جرمانہ کے ساتھ بل جمع کروانا پڑتا ہے اور یونٹ نمبر11 میں جو پوسٹ آفس ہے وہ صبح 9بجے کھلتا ہے اور 2بجے کے بعد بل وصول نہیں کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں غریب شہری ادائیگی کی آخری تاریخ گزرجانے کے بعد اصل بل سے زائد رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں جو عملاً غریبوں کی جیبوں پر ڈاکہ ہے۔ ان رہنمائوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی بلوں کی اس طرح ترسیل کو یقینی بنائے کہ بل موصول ہونے اور آخری تاریخ میں کم از کم 5سے 6دن کا وقفہ ہونا لازمی ہو اور جو پوسٹ آفس ہے اس کو 4 بجے تک بل وصول کرنے چاہیے جبکہ ایسا نہیں ہوتا وہ 2بجے کے بعدبل جمع کرنا بند کردیتے ہیں۔ لہٰذا سوئی سدرن گیس کے حکام بالا اس طرف توجہ دیتے ہوئے غریب محنت کشوں کو جو پہلے ہی اس مہنگائی کے عالم میں شدید پریشان ہیں بل کی ادائیگی وقت پر ادا کر سکیں اور جرمانے سے بچ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوئی سدرن گیس کمپنی آخری تاریخ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔