وفاتنظیم کے تحت آل سندھ پنشنرز کنونشن کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفا تنظیم فلاح و بہبودریٹائرڈملازمین صوبہ سندھ کے زیر اہتمام آل سندھ پنشنرزکنونشن کے جاری اعلامیے کے مطابق ساڑھے 5 ہزار پنشنرز کوزبردستی ڈسکوز میں ضم کیا گیا تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا، واپڈا کو توڑ کرجنریشن اور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کا قیام ملکی معیشت پر ضرب کاری ہے، حکمرانوں نے پاور سیکٹر میں اصلاحات کے نام پر واپڈا کو توڑ کر جنریشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں بنا کر ملک کی معیشت کو تباہ برباد کر دیا جس سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوا، قومی پاور ہاؤسوں کوکباڑ کی صورت میں اسکریپ کر کے کوڑیوں دام بیچ دیا گیاجو
کہ لمحہ فکریہ ہے! سرکاری پاور ہاؤسوں کے ساڑھے 5 ہزار پنشنرز کو ڈسکوزکے حوالے کرنے کی وفا تنظیم پرزور مذمت کرتی ہے، پنشن میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے، پنشنرز دشمن پالیسیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے، اگر سرکاری پاور ہاؤسوں کے پنشنرز کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو پھر ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلے گی اور پورے سندھ کے اضلاع کے پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے اور اسلام آباد کی طرف پنشنرز حقوق مارچ کریں گے، وفا تنظیم فلاح و بہبود ریٹائرڈ ملازمین صوبہ سندھ کے زیر اہتمام مقامی ہال میں منعقدہ آل سندھ پنشنرزکنونشن کی صدارت قومی پنشنرز رہنما وفا تنظیم کے مرکزی صدر احمد سلمان شاہین نے کی، جبکہ مہمانان خاص میں نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صد شمس الرحمان سواتی، پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی ،سینئر صحافی حمیدہ گھانگرو، جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر حافظ نصراللہ، ای او بی آئی پنشنرز ایسوسی ایشن کراچی کے نائب صدر شمس الذبہاء، پیپلز لیبر بیورو کراچی کے جنرل سیکرٹری حسین بادشاہ ،نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ، وفا تنظیم کے چیف آرگنائزر شمس الدین سولنگی ، حیسکوکے ریٹائرڈ لیبر ڈائریکٹر لونگ خان جکھرانی، وفا تنظیم کے سرپرست اعلیٰ تاج محمد بجارانی، کندھکوٹ کشمور وفا تنظیم کے سرپرست محمد زمان ڈایو، ضلع گھوٹکی کے چیف آرگنائزر نور محمد سومرو، لاڑکانہ کے صدر شبیر احمد سومرو، حیدرآباد وفا تنظیم کے صدر رحمت اللہ چاچڑ، آرگنائزر قرین خان، شعیب احمد منگریو کے علاوہ سندھ بھر کے سیاسی، سماجی رہنمائوں، پنشنرز اور وفا تنظیم فلاح و بہبود ریٹائر ڈملازمین صوبہ سندھ کے کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ وفا تنظیم فلاح و بہبود ریٹائرڈ ملازمین صوبہ سندھ کے زیر اہتمام آل سندھ پنشنرز کنونشن کے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کے جنکوز کے سرکاری پاور ہاؤسز جو کم خرچ اورمنافع بخش تھے انہیں پرائیویٹ پاور ہاؤسز آئی پی پی ایس کو فائدہ پہنچانے کے لیے بند کر کے کھربوں روپے کے قومی پاور ہاؤسوں کوکباڑ کی صورت میں اسکریپ کر کے کوڑیوں کے مول بیچ کر قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچا کر وہاں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کو ڈاؤن گریڈ کر کے ڈسکوز میں جبری طور پر ایڈجسٹ کر دیا ہے اور ان کے بچوں کو گھروں کی بجلی، پانی اور گیس بند کر کے زبردستی کالونیاں خالی کروائی گئی ہیں۔ اب حکومت جنکوز کے ساڑھے 5ہزار پنشنرز جن میں ریٹائرڈ ملازمین، فوتی ملازمین کی بیواؤں اور یتیم بچوں کو ڈسٹری بیوشن سے کمپنیوں میں ایڈجسٹ کر رہے ہیں ان کا اپنا کوئی مستقبل نہیں ہے، عنقریب حکومت تمام ڈسکوز کو ائی ایم ایف کے ایماء پر پرائیویٹ کرنے والی ہے جس کے بعد بیچارے پنشنرز کی پنشن غیر محفوظ ہو جائے گی،جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم بھی کو نظر انداز کر کے حکومت گروپ لاء آف انشورنس کی ریٹائرڈ ملازمین کو ادائیگی کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے جو کہ قابل مذمت عمل ہے۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں پیش کیا گیابل بھی سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے، آل سندھ پنشنرزکنونشن سے وفا تنظیم کے صدر احمد سلمان شاہین نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے پاور سیکٹر میں اصلاحات کے نام پر واپڈا کو توڑ کر جنریشن اور ڈسٹریبیوشن کمپنیاں بنا کر ملک کی معیشت کو تباہ برباد کر دیا ہے۔ پرائیویٹ پاور ہاؤسز آئی پی پیز سے غلط معاہدے کر کے مہنگی بجلی خریدنے بند پاور ہاؤسوں کو کیپیسٹی چارجز کے نام پہ کرپشن کے بدلے ملک کوکھربوں روپے کا نقصان پہنچایا اور ملی بھگت سے سرکاری پاور ہاؤسز کو بند رکھنے اور ان کی مرمت نہ کروا کر بتدریج گھاٹے میں دکھا کے منافہ بخش پاور ہاؤسوں کو مکمل طور پر بند کر کے کباڑ میں پیچ دیا گیا جبکہ سرکاری پاور ہاؤسز پرائیویٹ پاور ہاؤسوں سے سستی بجلی پیدا کر رہے تھے، حکومت کے ایسے عمل کی شدید الفاظ مذمت کرتے ہیں ایسے سرکاری پاور ہاؤسوں کے ساڑھے 5ہزار پنشنرز کو ڈسکوز کے حوالے کیا جا رہا ہے جس کی وفا تنظیم سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے، ہم کسی بھی صورت میں ایسا ہونے نہیں دیں گے کیونکہ عنقریب حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ پر ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کو پرائیویٹ کرنے جا رہی ہے۔ ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے پیرنٹ ادارے واپڈا واٹر سورسز میں ضم کیا جائے اور پنشنرز کی پنشن کو محفوظ کیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ہمیں زبردستی ڈسکوز میں ضم کیا گیا تو پھر پورے ملک میں دما ام مست قلندر ہوگا اورپورے سندھ کے اضلاع کے پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی دھرنے دیے اور اسلام آباد کی طرف پنشنرز تحفظ حقوق مارچ کریں گے اور معزز عدالت عالیہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2016ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ کیا تھا کہ ریٹائرڈ ملازمین کو بھی گروپ لاء آف انشوز کی رقم ادا کی جائے گی لیکن حکومت گزشتہ 9سالوں سے ٹال مٹول کر کے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، تمام مطالبات منظور کیے جائیں۔ نیز ان کی پنشن میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔ آل سندھ پنشنرزکنونشن میں جنکوز ہولڈنگ کمپنی اسلام آباد کے چیف ایڈوائزر ایچ آر مشتاق احمد خان اور ڈائریکٹر واپڈا پنشن کے وائس میسج پیغامات بھی سنوائے گئے جن میں انہوں نے جنکوزکے پنشنرزکی پنشن کو مکمل تحفظ دینے کی یقین دہانی کروائی۔ کنونشن میں شرکت کرنے والے تمام معزز مہمانوں کو سندھ کی ثقافت سوکھڑی سندھی اجر ک پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور ملک کی سلامتی استحکام پاک فوج کے شہداء اور تحریک پاکستان کے شہداء کے بلند درجات کی دعا کے بعدکنونشن اختتام پذیر ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملازمین صوبہ سندھ کے وفا تنظیم فلاح ریٹائرڈ ملازمین سرکاری پاور ہاو وفا تنظیم کے پاور ہاو سز کیا جائے کی پنشن کے صدر
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔