Express News:
2026-06-03@01:15:13 GMT

مالدار صوبوں کا محتاج وفاق

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

صدر مملکت آصف زرداری نے 2008کی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت میں سینیٹر میاں رضا ربانی کی سربراہی میں آئین میں 18 ویں ترمیم متفقہ طور پر کروائی تھی جس کے ذریعے چاروں صوبوں کو مالی اور انتظامی طور پر اتنا بااختیار کرا دیا تھا کہ جس کے نتیجے میں صوبے انتظامی طور پر بہت زیادہ بااختیار اور مالدار بنا دیے گئے تھے اور وفاق کو کمزور کرکے صوبوں کا متعدد معاملات میں محتاج بنا دیا گیا تھا۔

اس وقت پیپلز پارٹی ملک میں وہ مقبولیت کھو چکی تھی جو اسے بے نظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے 2008میں حاصل ہوئی تھی، مگر 1970 کے الیکشن میں بھی مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے واضح اکثریت اور سندھ و پنجاب میں بھٹو کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے صرف اکثریت ضرور حاصل کی تھی اور بلوچستان اور صوبہ سرحد میں پی پی کی اکثریت نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ن) کی طرح ملک میں کبھی دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی، البتہ سندھ میں 2008 سے پیپلز پارٹی چار انتخابات میں مسلسل واضح اکثریت حاصل کرتی آ رہی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے دو اور ان کے بعد 2008 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کی جو بھی وفاقی حکومتیں قائم ہوئیں وہ دوسری پارٹیوں کو ملا کر بنائی گئیں جن میں صرف 2008 کی حکومت اپنی مقررہ مدت پوری کر سکی تھی۔

2007 میں بے نظیر کی شہادت کے نتیجے میں ہمدردی کا ووٹ صرف سندھ میں پی پی کو ملا تھا جب کہ پنجاب میں مسلم لیگ نے اپنی حکومت بنائی جب کہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں مخلوط حکومتیں بنی تھیں اور سرحد میں اے این پی اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے اور 2008 کی وفاقی اور سندھ میں پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ کے لوگوں کو ملازمتوں میں بے انتہا نوازا اور فنڈز بھی دیے، جس کے نتیجے میں سندھ میں پی پی کی مقبولیت بڑی اور بعد کے تین انتخابات میں پیپلز پارٹی کو جو واضح اور بھرپور اکثریت ملی اتنی کامیابی بے نظیر بھٹو دور میں بھی کبھی نہیں ملی تھی جس کے بعد سے سندھ میں پی پی کو واضح اکثریت ملتی آ رہی ہے، جس کا سہرا بلاشبہ آصف زرداری کے سر جاتا ہے اور پیپلز پارٹی سندھ میں کسی اور کی حمایت کے بغیر حکومت بناتی آ رہی ہے۔

اندرون سندھ کے وہ وڈیرے اور سیاستدان جو دوسری پارٹیوں کے ذریعے منتخب ہوتے تھے وہ زرداری صاحب کی وجہ سے پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور مسلسل برسر اقتدار چلے آ رہے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی 2008 سے ترجیح صرف اندرون سندھ رہا اور شہری علاقے اس کی ترجیح نہیں رہے جہاں پی پی حکومت نے اپنوں کو دل بھر کر نوازا جس کا صلہ اسے بھرپور طور ملتا آ رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پنجاب و کے پی میں غیر مقبولیت کے بعد صدر آصف زرداری کو اندازہ ہو گیا تھا کہ آیندہ وفاق میں پی پی اقتدار میں نہیں آ سکے گی، اس لیے سندھ پر خصوصی توجہ دی گئی اور سندھ میں پی پی کے مستقل اقتدار کے لیے صدر زرداری نے 18 ویں ترمیم منظور کرائی تھی جس کے نتیجے میں صوبوں کو مزید خود مختاری ملی۔ متعدد محکمے وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے اور صوبے مالدار اور مضبوط جب کہ وفاق بے اختیار اور مالی طورکمزور بلکہ صوبوں کا محتاج ہو کر رہ گیا ہے۔

وفاق کی تین صوبائی حکومتیں حامی اور صرف کے پی حکومت مخالف ہے جو الزام لگا رہی ہے کہ وفاقی رقوم پنجاب کو زیادہ دی جا رہی ہیں اور کے پی کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا جب کہ کے پی حکومت اپنے قید بانی کی وجہ سے جان بوجھ کر تعاون نہیں کر رہی اور نئے وزیر اعلیٰ وزیر اعظم کی زیر صدارت کسی اجلاس میں بھی نہیں گئے اور کے پی میں جاری آپریشن کی مخالفت اور دہشت گردوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے جس پر وہاں گورنر راج کی باتیں ہو رہی ہیں جو اب 18 ویں ترمیم کے تحت ممکن نہیں کیونکہ صوبے اب کمزور نہیں اور نہ وہاں اب وفاق من مانی کر سکتا ہے۔

18 ویں ترمیم سے تمام وزرائے اعلیٰ بادشاہ بنے ہوئے ہیں اور آئین کے تحت مقامی حکومتوں کو بااختیار بنا رہے ہیں نہ بلدیاتی اداروں کو فنڈز میں ان کا آئینی حصہ دے رہے ہیں بلکہ انھوں نے صوبائی قوانین کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو اپنا محتاج اور بے اختیار بنا رکھا ہے اور وزرائے اعلیٰ اختیارات پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور نیچے منتقل کر کے مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے پر تیار ہی نہیں ہیں جب کہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ پہلے وفاق میں بلدیات کا محکمہ ہوتا تھا جو اب نہیں ہے۔

صوبے کے پاس فنڈز کی بہتات ہے اور وفاق کے پاس پہلے کی طرح اختیارات ہیں نہ فنڈز۔ وفاق کے پاس پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس، مہنگی کرنے اور ٹیکسوں میں اضافے کا اختیار ہے جس سے مہنگائی مسلسل بڑھائی جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ صاف کہہ چکے ہیں کہ حکومت بے روزگاروں کو ملازمتیں دینے کی پابند نہیں ہے۔ روزگار دینا اور قیمتیں کنٹرول کرنا اب وفاق کا نہیں بلکہ صوبائی حکومتوں کا کام ہے۔

وفاق اب صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دینے کا پابند ہے مگر اب صوبے پہلے کی طرح وفاق کے پابند نہیں ہیں اور من مانیوں میں مکمل آزاد اور خود مختار ہیں جب کہ وفاقی حکومت اب ان پر حکم نہیں چلا سکتی۔ وفاق کی مالی کمزوری دور کرنے کے لیے این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کے لیے وفاق کوشاں مگر صوبے اپنے فنڈز کم کرانے پر تیار نہیں ہیں۔

وفاقی دفاعی ضروریات کے لیے مطلوبہ فنڈزکے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، نہ ضرورت کے مطابق دفاعی فنڈز بجٹ میں مل رہا ہے جب کہ ملک کو اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن بھارت کا سامنا ہے جس کا دفاعی بجٹ ہم سے دس گنا زیادہ ہے مگر صوبوں کو ملک کے دفاع کی مضبوطی کی فکر نہیں کیونکہ ملکی دفاع وفاق کا کام ہے جس کے پاس دفاعی بجٹ بڑھانے کی رقم نہیں مگر وفاق اپنے اخراجات، غیر ملکی دورے، اپنوں کی مراعات کم نہیں کر رہا۔ غیر ضروری عہدے ختم ہو رہے ہیں نہ وزارتیں کم ہو رہی ہیں۔ وزیر اعظم ارکان اسمبلی، ججز ، بیورو کریٹس و دیگر کی مراعات ضرور بڑھاتے ہیں مگر دفاعی ضروریات پوری نہیں کرا رہے جو ملک کا اولین تقاضا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM میں پیپلز پارٹی سندھ میں پی پی کے نتیجے میں ویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں کو ہیں اور رہے ہیں کے پاس کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان