گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاق کے ذمے خیبر پختونخوا کے واجب الادا فنڈز ہیں اور اس معاملے پر وہ صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر یہ معاملہ دلیل اور شواہد کے ساتھ لڑا جانا چاہیے، گالم گلوچ سے کوئی مقدمہ کامیاب نہیں ہوتا۔ اگر صوبائی حکومت پارلیمانی کمیٹی بنا کر وفاق سے بات کرے تو ہم مکمل تعاون کریں گے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری دائرے میں رہ کر جدوجہد کی ہے۔ سیاسی معاملات کا حل پارلیمنٹ میں نکلتا ہے اور ہماری سوچ بھی یہی ہے کہ مسائل کو سیاسی انداز میں ہی حل کیا جائے۔ ہم نے ماضی میں بھی مشکلات کا سامنا کیا مگر پارلیمانی جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھے۔

مزید پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی سزا یافتہ، احتجاج سے کیسے رہائی ہو سکتی ہے؟ فیصل کریم کنڈی

فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ یہ پیپلز پارٹی کا اعزاز ہے کہ آصف علی زرداری دو مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے جیلیں کاٹیں مگر کبھی ریاستی اداروں کے خلاف بات نہیں کی۔

’پیپلز پارٹی ہمیشہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل تلاش کرتی آئی ہے اور آج بھی یہی مؤقف ہے کہ تنازعات پارلیمنٹ کے فورم پر حل ہونے چاہییں۔‘

انہوں نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو دہشتگردی کا سامنا ہے اور حالات تشویشناک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے امن بحال کیا جانا چاہیے۔ غیر قانونی افغان مہاجرین کو اپنے ملک واپس جانا ہوگا، تاہم جو افغان شہری قانونی طریقے سے آئیں گے ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

گورنر نے سوال اٹھایا کہ دنیا میں کون سا ملک ایسا ہے جہاں پاکستانی بغیر ویزے کے رہ سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے کئی دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیوں میں بھی افغان باشندوں کی شمولیت سامنے آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام افغان شہری برے ہیں، مگر افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو نہ صرف میدانِ جنگ میں مؤثر جواب دیا بلکہ سفارتی محاذ پر بھی کامیابی حاصل کی، جسے پوری دنیا نے دیکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا پاکستان کے ساتھ کاروبار کرنے میں دلچسپی لے رہی ہے اور ہر ماہ کوئی نہ کوئی عالمی رہنما پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ عالمی جریدوں میں بھی پاکستانی فیلڈ مارشل کی صلاحیتوں کو سراہا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ کتنا قریب ہے؟ فیصل کریم کنڈی نے بتا دیا

گورنر کے پی نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی حمایت کرے اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجے۔

انہوں نے واضح کیاکہ ریاستِ پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، اور اگر صوبے سے فوج نکال لی جائے تو دو دن میں نظام چلانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پی ٹی آئی سہیل آفریدی سیکیورٹی فورسز فیصل کریم کنڈی واجب الادا فنڈز وفاق وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سہیل ا فریدی سیکیورٹی فورسز فیصل کریم کنڈی واجب الادا فنڈز وفاق وی نیوز فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کے ساتھ کے خلاف ہے اور نے کہا

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال