فیصل آباد کیٹل مارکیٹ میں 2.14 کروڑ روپے کی عدم وصولی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
سٹی42: پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی میں مالی سال 2022-23 کے دوران ڈیفالٹر ٹھیکیداروں سے 2 کروڑ 14 لاکھ روپے واجبات وصول نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
کمپنی نے فیصل آباد کیٹل مارکیٹ میں اینیمل لیوی اور پارکنگ فیس کے لیے مختلف ٹھیکے دیے تھے، جن کی کل مالیت 5 کروڑ 87 لاکھ روپے تھی۔
ٹھیکیداروں نے صرف 1 کروڑ 23 لاکھ روپے جمع کرائے، جبکہ باقی رقم ادا نہیں کی گئی۔ محکمہ جاتی کارروائی کے بعد 1 کروڑ 8 لاکھ روپے ریکور کیے گئے اور ڈیفالٹر ٹھیکیداروں کے رسک پر دوبارہ نیلامی سے 1 کروڑ 40 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔ تاہم اصل ٹھیکیداروں سے تاحال 2 کروڑ 14 لاکھ روپے وصول نہیں ہو سکے۔
برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں کمی
آڈٹ رپورٹ میں کمزور اندرونی کنٹرولز کی نشاندہی کی گئی اور ڈیفالٹر ٹھیکیداروں کے خلاف بلیک لسٹنگ یا قانونی کارروائی نہ کرنے کا بھی ذکر ہے۔ ڈی اے سی نے معاملے کو وضاحت اور ریکوری تک زیر التوا رکھا، جبکہ پری پی اے سی نے فوری ریکوری اور آڈٹ کو اطلاع دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔