پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ اسرائیل، بھارت کی پراکسی ہے، رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ اسرائیل، بھارت کی پراکسی ہے، رانا تنویر حسین WhatsAppFacebookTwitter 0 28 December, 2025 سب نیوز
شیخوپورہ (آئی پی ایس )وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں بلکہ اسرائیل اور بھارت کی پراکسی ہے۔ شیخوپورہ میں میڈیا سے گفتگو میں رانا تنویر حسین نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی حکمت عملی نے پاکستان کو دنیا کے لیے اہم بنا دیا، حکومت نے معیشت کو سنبھالا اور تمام معاشی اشاریے مثبت بنا دیے۔
رانا تنویر حسین نے یہ بھی کہا کہ رواں سال آئی ایم ایف سے چھٹکارے میں کامیاب نہ ہوئے تو مزید سخت شرائط کے ساتھ رجوع کرنا پڑے گا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر نہیں،اس پارٹی کا نظریہ فسطائی ہے، جو جمہوری روایات کے لیے زہر قاتل ہے، سہیل آفریدی لاہور کی سڑکوں پرگھوم کر پنجاب کی ترقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان بھارتی پراکسی نہ بنے تو مذاکرات کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمظفر آباد میں کینسر ہسپتال سے مقامی سطح پر بہترین طبی سہولتیں میسرآئیں گی، وزیراعظم مظفر آباد میں کینسر ہسپتال سے مقامی سطح پر بہترین طبی سہولتیں میسرآئیں گی، وزیراعظم برطانیہ میں سکھ کمیونٹی کا بنگلادیش کی حمایت میں بھارت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ ہماری ریاست کسی کیلئے خطرہ نہیں،افغان وزیر داخلہ کا پاکستان سے مفاہمت کا اشارہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کی حمایت کرے، فیصل کریم کنڈی بھارت کے ساتھ سب برابری کی سطح پرہوگا، وہ ہینڈشیک نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ، محسن نقوی سی سی ڈی آن لائن فراڈ کرنے والوں کیخلاف کارروائی کریگیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رانا تنویر حسین سیاسی جماعت بھارت کی
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔