بنگلہ دیش کا اقلیتوں سے متعلق بھارتی مؤقف مسترد، بیانیے کو گمراہ کن قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش نے اقلیتوں کی صورتحال سے متعلق بھارت کی وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
ڈھاکا میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزارتِ خارجہ کے تبصرے زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے اور بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے طویل ریکارڈ کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں قومی انتخابات اور ریفرنڈم سے قبل سائبر سیکیورٹی مزید سخت
بیان میں واضح کیا گیا کہ حکومتِ بنگلہ دیش اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کسی بھی ‘غلط، مبالغہ آمیز یا بدنیتی پر مبنی بیانیے’ کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے بھارت کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا جن کے تحت انفرادی نوعیت کے مجرمانہ واقعات کو منظم طور پر ہندو اقلیت کے خلاف ظلم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق، اس طرح کے بیانیے بنگلہ دیش کے خلاف منفی جذبات کو ہوا دینے اور بھارت میں بنگلہ دیشی اداروں کے بارے میں بداعتمادی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: طارق رحمان نے اپنا وژن پیش کردیا، قومی اتحاد اور جامع سیاست پر زور
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے دی گئی ایک مثال کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی وزارت نے کہا کہ مذکورہ فرد ایک ‘فہرست میں شامل مجرم’ تھا، جس کی ہلاکت مبینہ طور پر بھتہ خوری کی کوشش کے دوران پیش آئی۔ اس واقعے کو اقلیتوں پر ظلم کے طور پر پیش کرنا نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ گمراہ کن بھی ہے۔
بیان میں بھارت کے متعلقہ حلقوں پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے بیانیوں سے گریز کریں جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور باہمی اعتماد، احترام اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :