جاپانی طلبہ نے انسانی طاقت سے اڑنے والی سائیکل تیار کرلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-08-8
ٹوکیو (مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان کے طلبہ نے ایسی سائیکل ایجاد کی ہے جو صرف پیڈل چلانے کی طاقت سے زمین سے اڑ سکتی ہے۔یہ منفرد منصوبہ ایک عام سائیکل سے شروع ہوا، مگر اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ ہر پیڈل کا گھومنا مشین کو اڑان دینے کے لیے کافی ہو۔ طلبہ کی یہ ایجاد ثابت کرتی ہے کہ معروف اور سادہ مشینیں بھی تخلیقی ڈیزائن کے ذریعے ہوا میں بلند کی جا سکتی ہیں۔سائیکل کے لیے کوئی انجن، بیٹری یا دیگر پاور سورس استعمال نہیں کیے گئے۔ اڑان کے لیے تمام قوت رائیڈر کی جسمانی طاقت فراہم کرتی ہے، جس سے ہر گھما کو فضا میں لے جانے کے لیے مطلوبہ توانائی ملتی ہے۔یہ کامیابی اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں غیر روایتی ٹرانسپورٹ کے طریقے زیرِ غور ہیں۔ انسانی طاقت سے چلنے والے فلائٹ کے نظریات پر تحقیق طویل عرصے سے کی جا رہی تھی، لیکن عملی مثال نایاب ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔