تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں ‘ اسرائیل و بھارت کی پراکسی ہے‘رانا تنویر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-08-16
شیخوپورہ(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں بلکہ اسرائیل اور بھارت کی پراکسی ہے۔شیخوپورہ میں میڈیا سے گفتگو میں رانا تنویر حسین نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی حکمت عملی نے پاکستان کو دنیا کے لیے اہم بنا دیا، حکومت نے معیشت کو سنبھالا اور تمام معاشی اشاریے مثبت بنا دیے ۔رانا تنویر حسین نے یہ بھی کہا کہ رواں سال آئی ایم ایف سے چھٹکارے میں کامیاب نہ ہوئے تو مزید سخت شرائط کے ساتھ رجوع کرنا پڑے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر نہیں،اس پارٹی کا نظریہ فسطائی ہے، جو جمہوری روایات کے لیے زہر قاتل ہے، سہیل آفریدی لاہور کی سڑکوں پرگھوم کر پنجاب کی ترقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ افغان طالبان بھارتی پراکسی نہ بنے تو مذاکرات کریں گے۔
مرید کے : وفاقی وزیر رانا تنویر حسین ممتاز مذہبی و سماجی شخصیت پیر سید زاہد شاہ گیلانی سے ان کے چچا کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد فاتحہ خوانی کر رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رانا تنویر حسین کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔