data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251229-08-22
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں ادویات کی قلت سے مریض اسمگل شدہ ادویات استعمال کرنے پرمجبور ہیں جس سے بچوں، حاملہ خواتین اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑگئی ہیں۔ افغان جریدے ہشتِ صبح نے انکشاف کیا ہے کہ طورخم بارڈر کی بندش اور پاکستان سے ادویات کی درآمد پر پابندی کے بعد افغانستان میں غیر قانونی اور اسمگل شدہ ادویات کی بھرمار ہو گئی ہے، یہ ادویات اب نہ صرف فارمیسیز بلکہ سڑک کنارے دکانوں تک بھی پہنچ چکی ہیں۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے معیار کی جانچ کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں جبکہ ذخیرہ کرنے کے حالات بھی طبی معیار کے مطابق نہیں، جس سے مریضوں کے علاج کی افادیت متاثر ہو رہی ہے۔ افغان جریدے کے مطابق کابل کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اب ادویات پہلے جیسا اثر نہیں کرتیں اور بیماری کے ساتھ مالی دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، افغانستان میں ادویات کی اسمگلنگ نیا مسئلہ نہیں، تاہم طورخم کی طویل بندش اور طلب میں اضافے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ افغان میڈیا رپورٹ ان کے مطابق پاکستانی ادویات کی درآمد بند ہونے کے بعد غیر قانونی ادویات کی مانگ بڑھی، جس سے اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، اسمگل شدہ ادویات پر ٹیکس کم ادا کیا جاتا ہے، اس لیے یہ نسبتاً سستی پڑتی ہیں اور منافع بھی زیادہ ہوتا ہے مگر غیر قانونی ہونے کے باعث نہ معیار پر کوئی کنٹرول ہے اور نہ ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات موجود ہیں۔ خیال رہے کہ بعض اوقات یہ ادویات شدید گرمی یا سردی میں کئی دنوں تک کنٹینرز میں کھڑی رہتی ہیں، جس سے انہیں نقصان پہنچتا ہے، مگر اس کے باوجود یہ مارکیٹ میں فروخت ہو جاتی ہیں۔ واضح رہے کہ کشیدگی میں اضافے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر کی بندش اور افغان طالبان کی جانب سے ادویات کی درآمد روکنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد افغان طالبان حکومت کی جانب سے بھارتی اور ایرانی ادویات درآمد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اسی سلسلے میں طالبان کے نائب وزیرِ صحت نے ایران جبکہ وزیرِ صحت نے بھارت کا دورہ بھی کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک مقامی ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ اسمگل شدہ ادویات زائد المیعاد ہو سکتی ہیں یا غلط حالات میں رکھی گئی ہوتی ہیں، جو یا تو بالکل اثر نہیں کرتیں یا مریض کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں، جبکہ اینٹی بایوٹکس کے بے قابو استعمال سے دواؤں کے خلاف مزاحمت بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے، اگر یہ رجحان جاری رہا تو افغانستان کو ایک بڑے عوامی صحت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسمگل شدہ ادویات ادویات کی کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ