کزن میرے خلاف بلاوجہ پروپیگنڈا کررہا ہے، ایم پی اے حسن علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-11-11
پڈعیدن (نمائندہ جسارت) ایم پی اے سید حسن علی شاہ نے بھریاسٹی کی لعل حویلی میں میں پریس کانفرنس کی میڈیا نمائندوں کو انہوں نے بتایا کہ میرا کزن سید امیر علی شاہ ہمارے خلاف مختلف مرحلوں میں خامخواہ پراپگینڈہ کررہا ہے ہماری پراپرٹی میں چند جوگی برادری کے گھر آباد ہیں جنہیں ہمارے خلاف استعمال کیا جارہا ہے جوگیوں کی مکمل کالونی کو ہم نے خالی کرؤانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا صرف ہماری۔زمین پر قابض لوگوں سے۔واگزار کروایا جارہا تھا جوگیوں کا کیس عدالت میں ہے ہم اپنے کاغذات عدالت میں پیش کرینگے پھر جو عدالت فیصلہ سنائے کزن امیر علی شاہ پیپلز پارٹی کا۔حصہ ہوتے ہوئے پارٹی پالیسیوں کیخلاف کام کررہا ہے بھریا ٹو پکاچانگ سڑک کے۔نام پر خامخواہ دھرنے کا۔اعلان کیا۔گیا ہے جس کے پیچھے بھی سید امیر شاہ کا ہاتھ ہے اعلانیہ دھرنے والی سڑک دو حصوں میں بن رہی ہے آدھا حصہ بن۔چکا ہے بقیہ کام آگلے تین ہفتوں میں شروع ہونے والا ہے بھریااسپتال اپگریڈ منظور ہوچکا ہے پھر بھی خامخواہ واویلا کیا جارہا ہے بھریا اور بھریاسٹی کی۔عوام کو گمراہ کیاجارہا ہے جبکہ انفراسٹکچر سمیت صحت میرے اہم ایجنڈوں میں شامل ہے بھریا, بھریاروڈ, کنڈیارو, محراب پور سمیت پورے حلقے میں کروڑوں روپے کی۔ترقیاتی اسکمیں جاری ہیں حلقہ کے کئی علاقوں میں حالیہ بھی چارچار کروڑ کی اسکمیں دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی شاہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔