گمبٹ کے بااثر وڈیروں نے نوجوان کو اغواء کرکے اہل خانہ کو گھر سے نکال دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-11-15
خیرپور (نمائندہ جسارت) گمبٹ کے بااثر وڈیروں نے نوجوان کو گم کرکے اہلخانہ پر وحشیانہ تشدد کے بعد گھر پر قبضہ کرکے گھر سے نکال دیا متاثرین کا پریس کلب خیرپور کے سامنے احتجاج متاثرہ خاتون کی انصاف ملنے پر خودسوزی کی دھکمی تفصیلات کے مطابق گمبٹ کے قریب گوٹھ راضل ناریجو کی رہائشی خاتون مسمات عجیبان زوجہ گل حسن ناریجو نے اپنے معصوم بچوں سمیت قرآن پاک اٹھاکر احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے کے بااثر وڈیرے تاج محمد ناریجو کے بیٹوں غلام فرید ، اعظم ، عابد ، احسان ناریجو نے اسلحے کے زور پر گھر میں داخل ہوکر وحشیانہ تشدد کرنے کے بعد گھر سے نکال دیاہے اور ایک نوجوان راجہ ناریجو کو گم کردیا ہے انھوں نے کہاکہ پولیس نے بااثر وڈیرے کے حکم پر میرا شوہر گل حسن ناریجو جیل میں قید ہے پولیس بااثر وڈیرے کی غلام بنی ہوئی ہے ہماری فریاد سننے کے لئے تیار نہیں ہے میرے بچے دربدر کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں انھوں نے ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوان کو بازیاب کراکے بااثروڈیرے کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ورنہ ایس ایس پی آفس خیرپور کے سامنے اپنے بچوں سمیت خودسوزی کرلونگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بااثر
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔