پنجاب پروٹیکشن اونرشپ ایکٹ 2025 کیخلاف آئینی درخواست سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پروٹیکشن اونرشپ ایکٹ 2025 کے خلاف آئینی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہو گئی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فیصل زمان خان آج درخواست پر سماعت کریں گے۔ درخواست پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی شیخ امتیاز محمود اور اعجاز شفیع نے دائر کی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جائیداد سے متعلق اختیارات انتظامیہ کو دے کر آئین کی خلاف ورزی کی گئی، ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی میں فریقین کو وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت نہیں۔
پاکستان بار کونسل نے پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون کی معطلی کا خیرمقدم، عدالت سے اظہارِ یکجہتی اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر تنقید کی ہے۔
پی ٹی آئی کے اراکین نے درخواست میں کہا ہے کہ سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کرنا آئین سے متصادم اقدام ہے، ایگزیکٹو اور عدالتی اختیارات کو یکجا کرنا عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پراپرٹی اونرشپ ایکٹ اور اس کے تحت ہونے والے اقدامات کالعدم قرار دیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔