پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس نیک نیتی سے متعارف کرایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)قانون کی تشکیل اور اس کے نفاذ کا طریقہ ایسا کیوں رکھا گیا کہ خود انصاف کی بنیادیں لرزنے لگیں؟۔ پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 بظاہر ایک نیک نیتی کے ساتھ متعارف کروایا گیا قانون تھا۔ دعویٰ یہ کیا گیا کہ یہ آرڈیننس برسوں سے ستائے گئے عام شہریوں، غریبوں، بیواؤں اور کمزور طبقات کو قبضہ مافیا سے نجات دلانے کے لیے لایا گیا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر نیت واقعی نیک تھی تو پھر قانون کی تشکیل اور اس کے نفاذ کا طریقہ ایسا کیوں رکھا گیا کہ خود انصاف کی بنیادیں لرزنے لگیں؟ اور کیوں چند ہی دنوں میں لاہور ہائیکورٹ کو نہ صرف اس قانون پر عملدرآمد روکنا پڑا بلکہ اس کے تحت دیے گئے قبضے بھی واپس کروانے کا حکم دینا پڑا؟
یہ وہ مقام ہے جہاں معاملہ صرف قبضہ مافیا بمقابلہ عوام کا نہیں رہتا بلکہ ریاستی اختیارات، آئینی توازن اور شہری آزادیوں کا بن جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مؤقف ہے کہ اس قانون کی معطلی عوام کی نہیں بلکہ قبضہ مافیا کی جیت ہے۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ریمارکس ہیں جو اس قانون کو اختیارات کے خطرناک ارتکاز کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ان دونوں بیانیوں کے درمیان اصل سوال دب جاتا ہے: کیا انصاف کا حصول انتظامی طاقت کے زور پر ممکن ہے یا آئینی طریقہ کار ہی واحد راستہ ہے؟
چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ریمارکس محض جذباتی نہیں بلکہ آئینی خدشات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ اگر یہ قانون نافذ رہا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں خالی کروایا جاسکتا ہے، دراصل قانون کی وسعت اور خطرناک امکانات کی نشاندہی ہے۔ جب ایک ڈپٹی کمشنر کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ کسی بھی جائیداد کے بارے میں درخواست وصول کرے، محدود سماعت کرے اور عملاً قبضہ دلوادے، تو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ کون طاقتور ہے اور کون کمزور، بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ کل کو کون محفوظ رہے گا؟
حکومت کا مؤقف ہے کہ سول عدالتوں میں مقدمات دہائیوں تک چلتے ہیں، اسی لیے 90 دن میں فیصلے کرنے کا ماڈل لایا گیا۔ بات درست ہے کہ ہمارا عدالتی نظام سست اور پیچیدہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سست روی کا علاج یہ ہے کہ عدلیہ کو بائی پاس کر کے انتظامیہ کو جج بنا دیا جائے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب انتظامیہ کو عدالتی اختیارات دیے گئے، تو انصاف کم اور زیادتیاں زیادہ ہوئیں۔
عدالت میں سامنے آنے والے کیسز اس خدشے کو حقیقت میں بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ فیصل آباد کی مارکی ہو یا قصور کی زرعی زمین، دونوں مثالیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ جہاں معاملات پہلے ہی سول عدالتوں اور حتیٰ کہ سپریم کورٹ تک جا چکے تھے، وہاں بھی ڈپٹی کمشنرز نے خود کو بااختیار سمجھتے ہوئے قبضے دلوائے۔ انتظامیہ کا یہ مؤقف کہ ’’ہمیں عدالتی کارروائی دیکھنے کا مینڈیٹ نہیں، ہم صرف ریونیو ریکارڈ دیکھتے ہیں‘‘ دراصل ریاستی بے حسی کا اعتراف ہے۔ اگر عدالتیں، فیصلے اور حکم نامے انتظامیہ کے لیے بے معنی ہوجائیں تو پھر قانون کی حکمرانی کس کھاتے میں جائے گی؟
اس مسئلے کا حل جذباتی بیانیوں، عدلیہ اور انتظامیہ کے تصادم، یا ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست میں نہیں، بلکہ ایک متوازن، آئینی اور شفاف نظام کے قیام میں ہے۔ ایسا نظام جو نہ صرف قبضہ مافیا کو لگام دے بلکہ عام شہری کو یہ اعتماد بھی دے کہ اس کا گھر، زمین اور کاروبار کسی ایک افسر کے موبائل فون کال پر خطرے میں نہیں پڑے گا۔
سب سے پہلا اور بنیادی حل یہ ہے کہ قانون سازی آئین کے دائرے میں رہ کر کی جائے، نہ کہ آئین کو اپنے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔ آرٹیکل 10-A منصفانہ سماعت اور اپیل کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ کسی بھی قانون میں اگر یہ حق سلب کیا جائے گا تو وہ عدالت میں نہیں ٹھہر سکے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ پراپرٹی سے متعلق کسی بھی نئے قانون میں واضح، فوری اور مؤثر اپیل کا حق دیا جائے، چاہے وہ سول عدالت ہو یا خصوصی ٹریبیونل۔
دوسرا اہم حل انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات کی واضح حد بندی ہے۔ ڈپٹی کمشنر یا کوئی بھی انتظامی افسر جج نہیں ہوسکتا۔ وہ حقائق اکٹھے کرسکتا ہے، ابتدائی کارروائی کرسکتا ہے، مگر حتمی فیصلہ صرف ایک آزاد اور غیر جانبدار عدالتی فورم ہی کرے۔ اگر حکومت واقعی تیز انصاف چاہتی ہے تو اس کا راستہ انتظامیہ کو بااختیار بنانا نہیں بلکہ خصوصی پراپرٹی ٹریبیونلز کا فوری قیام ہے، جن میں حاضر سروس ججز، تجربہ کار وکلا اور ریونیو ماہرین شامل ہوں۔
تیسرا حل ریونیو نظام کی اصلاح ہے، کیونکہ قبضہ مافیا کی جڑ پٹواری کلچر، جعلی رجسٹریاں اور ناقص ریکارڈ ہے۔ جب تک زمینوں کا ڈیجیٹل، شفاف اور ناقابلِ جعلسازی ریکارڈ نہیں ہوگا، کوئی بھی قانون مؤثر نہیں ہو سکتا۔ اگر حکومت واقعی نیت رکھتی ہے تو طاقتور آپریشنز سے پہلے ریونیو ڈپارٹمنٹ کے اندر موجود بدعنوانی کو نشانہ بنائے۔ وہی پٹواری اور افسران جو کل جعلی اندراجات کر رہے تھے، آج اگر مزید اختیارات پا جائیں تو وہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کا تسلسل ہوں گے۔
چوتھا اور نہایت اہم حل عدالتی نظام کی رفتار میں اضافہ ہے۔ یہ درست ہے کہ زمینوں کے مقدمات دہائیوں تک چلتے ہیں، مگر اس کا علاج متوازی نظام کھڑا کرنا نہیں۔ اس کا حل خصوصی بنچز، ٹائم لائنز، ڈیجیٹل فائلنگ اور کیس مینجمنٹ سسٹمز میں ہے۔ اگر سول عدالتوں میں پراپرٹی کیسز کے لیے الگ فاسٹ ٹریک بنچز قائم کر دیے جائیں، تو عوام کو بھی جلد انصاف ملے اور انتظامیہ کو غیر ضروری مداخلت کا جواز بھی نہ ملے۔
پانچواں حل احتساب ہے۔ اگر کسی ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا کمیٹی کے رکن نے اختیارات سے تجاوز کیا، جعلی دستاویزات پر فیصلہ دیا یا عدالتی احکامات کو نظرانداز کیا، تو اس کے خلاف فوری اور مثالی کارروائی ہونی چاہیے۔ قانون کی عملداری صرف شہری پر نہیں، ریاستی اہلکار پر بھی یکساں لاگو ہونی چاہیے۔ جب تک اختیارات کے ساتھ جوابدہی نہیں ہوگی، انصاف محض ایک نعرہ رہے گا۔
چھٹا اور شاید سب سے ضروری حل سیاسی برداشت اور ادارہ جاتی احترام ہے۔ عدالت کسی حکومت کی دشمن نہیں ہوتی اور حکومت کسی عدالت کی حریف نہیں۔ اگر عدلیہ کسی قانون پر سوال اٹھاتی ہے تو اسے قبضہ مافیا کی حمایت قرار دینا خطرناک رجحان ہے۔ اسی طرح عدالتوں کو بھی عوامی مسائل کی سنگینی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں اداروں کے درمیان مکالمہ، اصلاح اور بہتری کا راستہ ہی ریاست کو مضبوط بناتا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ قبضہ مافیا کے خلاف قانون ہونا چاہیے یا نہیں قانون ضرور ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا قانون چاہتے ہیں جو طاقتور افسر کے ہاتھ میں لاٹھی بن جائے، یا ایسا قانون جو کمزور شہری کے ہاتھ میں ڈھال بنے؟ انصاف وہی ہے جو تیز بھی ہو اور منصفانہ بھی، مضبوط بھی ہو اور آئینی بھی۔
اگر پنجاب واقعی ایک ماڈل صوبہ بننا چاہتا ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قبضہ مافیا کا مقابلہ قانون سے ہوگا، مگر قانون کی حکمرانی کے ساتھ، نہ کہ قانون کے نام پر حکمرانی کے ذریعے۔ یہی راستہ عوام کے اعتماد، ریاست کی ساکھ اور آئین کی بالادستی کو بچا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ قبضہ مافیا انتظامیہ کو ڈپٹی کمشنر نہیں بلکہ سول عدالت قانون کی یہ ہے کہ نہیں ہو سوال یہ
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔