صومالیہ کی خودمختاری پر کسی سمجھوتے کی حمایت نہیں ہوگی، پاکستان کا دوٹوک مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان میں دوٹوک مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالیہ کی خودمختاری پر کسی سمجھوتے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام عبدی علی کا اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی تازہ صورتحال، صومالیہ کو درپیش سفارتی چیلنجز اور اقوام متحدہ میں ممکنہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں کے مابین رابطے کے دوران صومالی وزیر خارجہ نے پاکستان سے خصوصی طور پر درخواست کی کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صومالیہ کے تحفظات مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے فعال تعاون کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے صومالیہ کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور مکمل حمایت کا واضح اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اصولی طور پر ایسی تمام کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے جو کسی خودمختار ریاست کی جغرافیائی سالمیت کو نقصان پہنچائیں یا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے مترادف ہوں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان عدم مداخلت، خودمختاری کے احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ صومالیہ کو درپیش موجودہ صورتحال نہ صرف اس ملک کی داخلی سلامتی بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے عالمی برادری کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر اس فورم پر صومالیہ کے ساتھ کھڑا رہے گا جہاں اس کے قانونی اور سفارتی حقوق کا سوال ہو۔
صومالی وزیر خارجہ عبدالسلام عبدی علی نے اس موقع پر پاکستان کے اصولی مؤقف اور مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مشکل اوقات میں صومالیہ کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک قابلِ اعتماد دوست اور شراکت دار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صومالیہ کے تحفظات کو مؤثر انداز میں پیش کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ عالمی برادری کو زمینی حقائق سے آگاہ کیا جا سکے اور کسی بھی یکطرفہ یا غیر قانونی اقدام کی حوصلہ شکنی ہو۔
عبدالسلام عبدی علی نے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ اپنی سفارتی ساکھ اور عالمی سطح پر اثرورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے صومالیہ کے مؤقف کو سلامتی کونسل کے سامنے مضبوطی سے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک کی حمایت صومالیہ کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اس سے بین الاقوامی قانون اور اصولوں کی پاسداری کو تقویت ملتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے صومالی وزیر خارجہ کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر صومالیہ کے لیے اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صومالیہ کے تحفظات کو اجاگر کرنے کے لیے سفارتی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور اس معاملے پر قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ صومالیہ کے اسحاق ڈار کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چین کی معروف کمپنی فیمسن کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں غذائی تحفظ، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور فوڈ اسٹوریج کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے چینی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون سے یہ دوستی مزید مستحکم ہوگی۔شہباز شریف نے فیمسن کی جانب سے پاکستان میں اجناس کے اسٹوریج مراکز کو جدید اسٹیٹ آف دی آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوگی، غذائی تحفظ میں بہتری آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں میں پاکستان کی افرادی قوت کی ہنرمندی اور پیشہ ورانہ تربیت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مقامی افرادی قوت جدید زرعی ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکے۔فیمسن کے چیف ایگزیکٹو جیک چین نے پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دور چین کے دوران ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں وہ پاکستان آئے ہیں تاکہ غذائی تحفظ سے متعلق قابلِ عمل منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرپراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی اسلام آباد بار سے ہو گی:اعظم نذیر تارڑ اگلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم