سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اطراف میں شدید دھند، فلائٹ آپریشن متاثر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اطراف میں شدید دھند کے باعث تمام فلائٹ آپریشن اور شیڈول جزوی طور پر متاثر ہوگئے۔
ترجمان سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ محمد عمیر خان کے مطابق ایئرپورٹ پر پروازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے حد نگاہ کم سے کم 500 میٹر درکار ہوتی ہے لیکن تاحال حد نگاہ 100 میٹر ہے۔
مزید پڑھیںشدید دھند کے باعث موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند
سینٹرل ریجن میں شدید دھند کے باعث متعدد موٹرویز بند، موٹروے پولیس کا الرٹ جاری
دھند کی شدت میں کمی ہوتے ہی تمام فضائی آپریشن شیڈول کے مطابق چلے گا۔ ائیرپورٹ انتظامیہ تمام ایئر لائنز کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ترجمان کے مطابق مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پرواز سے متعلق تفصیلات ایئرلائن سے حاصل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔