WE News:
2026-07-24@03:33:28 GMT

خاتون پائلٹ کی چینی ساختہ مسافر طیارے میں تاریخی تعیناتی

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

خاتون پائلٹ کی چینی ساختہ مسافر طیارے میں تاریخی تعیناتی

چین نے اپنے مقامی طور پر تیار کردہ مسافر طیارے سی 919 کے لیے پہلی خاتون پائلٹ کو کپتان مقرر کردیا ہے۔

یو یوئے اس سے قبل چائنا سدرن ایئرلائنز میں بوئنگ 737 کی پائلٹ رہ چکی ہیں اور رواں سال سخت تربیت کے بعد سی 919 پروگرام کا حصہ بنی ہیں۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق یو یوئے نے 2015 میں ایئرلائن میں شمولیت کے بعد سے اب تک اپنا کسی بھی غلطی سے پاک ’زیرو ایرر‘ ریکارڈ برقرار رکھا ہے۔

????????‍✈️????????She’s the world’s first female C919 captain pilot, flying with China Southern Airlines! Congratulations!????

Only the best of the best can become a C919 captain.

She made zero mistakes in her 9-year career.✈️ pic.twitter.com/3cEYx9vBsK

— Li Zexin 李泽欣 (@XH_Lee23) December 10, 2025

 

یو یوئے نے چین کی سول ایوی ایشن فلائٹ یونیورسٹی سے تربیت حاصل کی اور انہیں اُن سینئر پائلٹس کے گروپ میں شامل کیا گیا جو بوئنگ اور ایئربس طیاروں سے سی 919 پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔

سی 919 ایک نیروبڈی کمرشل طیارہ ہے جسے کمرشل ایئرکرافٹ کارپوریشن آف چائنا نے تیار کیا ہے۔ یہ طیارہ مختصر اور درمیانی فاصلے کی پروازوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اسے بوئنگ 737 اور ایئربس اے 320 کا چینی متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کی سب سے طویل نان اسٹاپ فلائٹ، چینی ایئرلائن کا نیا ریکارڈ

یہ طیارہ مئی 2023 میں اندرونِ ملک کمرشل سروس میں شامل ہوا، رپورٹ کے مطابق چین کی 3 بڑی سرکاری ایئرلائنز، چائنا سدرن، ایئر چائنا اور چائنا ایسٹرن، اپنے بیڑے میں سی 919 طیاروں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے پائلٹس کو نئی تربیت فراہم کررہی ہیں۔

سی 919 پر منتقلی کے بارے میں کپتان یو یوئے بتایا کہ جب ان سے سی 919 پروگرام میں شامل ہونے کی رضامندی پوچھی گئی تو انہوں نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی۔

مزید پڑھیں: چین کی 10 انقلابی ایجادات، قدیم سے جدید تک دنیا پر چھا جانے کی داستان

انہوں نے شنگھائی میں کوماک کے تربیتی مرکز میں کئی ماہ کی تربیت مکمل کی، جس میں کلاس روم تعلیم اور فل فلائٹ سمیولیٹر سیشنز شامل تھے، تاکہ انجن کی خرابی اور خراب موسم جیسی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

کپتان یو یوئے نے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے ہوا بازی میں دلچسپی تھی، کیونکہ وہ گوانگژو بائیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب پلی بڑھی ہیں۔

مزید پڑھیں: بوئنگ کے تیار کردہ جہازوں میں آئے روز تکنیکی خرابیاں کیوں پیدا ہو رہی ہیں؟

انہوں نے ہوا بازی کے شعبے میں خواتین کو درپیش چیلنجز پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون پائلٹس کو پیشہ ورانہ کیریئر کے ساتھ ساتھ شادی اور بچوں کی پرورش جیسی خاندانی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں۔

ان کے مطابق جو خواتین ان تمام مشکلات کے باوجود نمایاں کامیابی حاصل کرتی ہیں، وہ نہایت مضبوط اور باہمت ہوتی ہیں۔

یو یوئے نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ اب زیادہ خواتین پائلٹس، انجینئرزاورانسٹرکٹرز کے طور پر اس شعبے میں شامل ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: اگر ہوائی جہاز کا دروازہ اچانک کھل جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

ان کے مطابق 2011 میں جب انہوں نے فلائٹ کالج میں داخلہ لیا تو خواتین کی تعداد نہایت کم تھی، تاہم اب مردوں کے غلبے والے اس شعبے میں زیادہ نوجوان خواتین قدم رکھ رہی ہیں۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں چین میں کمرشل اور نجی سطح پر 941 خواتین پائلٹس موجود تھیں، تاہم یہ تعداد ملک میں کل پائلٹس کا دو فیصد سے بھی کم ہے۔

مزید پڑھیں: چین میں فضائی ٹیکسی کی کامیاب آزمائشی پرواز

اس کے مقابلے میں، امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2023 میں امریکا میں خواتین پائلٹس کی شرح تقریباً 9 فیصد تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طیارہ سازی کے شعبے میں بھی خواتین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو رہی ہیں، کوماک میں زیرِ ترقی وسیع الجثہ طیارے سی 929  کی مرکزی ڈیزائنر ژاؤ چون لِنگ ہیں، جو اس سے قبل سی 919  منصوبے پر بھی کام کر چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایئر چائنا ایئربس بوئنگ بوئنگ 737 چائنا ایسٹرن چائنا سدرن خاتون پائلٹس ڈیزائن ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ سول ایوی ایشن سی 919 شنگھائی فلائٹ یونیورسٹی کارپوریشن آف چائنا کمرشل ایئرکرافٹ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایئر چائنا ایئربس چائنا ایسٹرن چائنا سدرن خاتون پائلٹس ڈیزائن ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ سول ایوی ایشن شنگھائی فلائٹ یونیورسٹی کارپوریشن آف چائنا کمرشل ایئرکرافٹ مزید پڑھیں یو یوئے نے کے مطابق بتایا کہ انہوں نے رہی ہیں

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار