محسن نقوی کا شاہین چوک انڈر پاس کا دورہ،31 دسمبر تک ٹریفک کھولنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے علی الصبح شاہین چوک انڈر پاس کا دورہ کیا اور انڈر پاس کو 31 دسمبر تک ٹریفک کیلئے کھولنے کی ہدایت بھی دی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سائٹ پر فنشنگ ورک کا معائنہ کیا اور دورے کے دوران انڈر پاس پر کارپٹنگ ورک کا مشاہدہ بھی کیا۔
محسن نقوی نے منصوبے کے اطراف ہارٹیکلچر اور لینڈ سکیپنگ کے کام کا جائزہ لیا، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے اطراف مزید پودے لگائے جائیں تاکہ علاقے کو خوبصورت اور ماحول دوست بنایا جا سکے۔
محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی پر پاکستان پیپلزپارٹی کی تعزیتی تقریب
وفاقی وزیر نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ شاہین چوک انڈر پاس کو 31 دسمبر تک ہر صورت ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے، اس منصوبے کی تکمیل سے شاہین چوک پر ٹریفک کا دیرینہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے گا جس سے شہریوں کو آمدورفت میں بے پناہ آسانی حاصل ہوگی اور ٹریفک جام سے نجات ملے گی۔
دورے کے موقع پر چیئرمین سی ڈی اے نے وفاقی وزیر داخلہ کو منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور کام کی رفتار اور تکمیل کے مراحل سے آگاہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر محسن نقوی شاہین چوک انڈر پاس
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔