Daily Mumtaz:
2026-06-03@01:15:09 GMT

غیر رسمی ریٹیل معیشت: پوشیدہ طاقت اور دستاویزی چیلنج

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

غیر رسمی ریٹیل معیشت: پوشیدہ طاقت اور دستاویزی چیلنج

پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور محلوں میں روزانہ شام کے وقت جو معاشی سرگرمی اپنے عروج پر پہنچتی ہے، وہ دراصل ملک کی غیر رسمی ریٹیل معیشت کی حقیقی عکاس ہے۔ کریانہ اسٹورز، ریڑھی بان، گھریلو کاروبار، چھوٹے تھوک فروش اور اسٹریٹ وینڈرز عوام کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ وسیع شعبہ اب بھی بڑی حد تک دستاویزی نظام سے باہر ہے۔
مختلف مطالعات کے مطابق پاکستان کی غیر رسمی معیشت مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 35 سے 40 فیصد حصہ ہے، جس میں تھوک اور پرچون تجارت مرکزی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ غیر زرعی شعبے میں تقریباً 70 فیصد افراد غیر رسمی طور پر روزگار حاصل کر رہے ہیں، جو نہ صرف اس شعبے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دستاویز بندی کے بڑے چیلنج کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
یہ غیر رسمی ریٹیل نیٹ ورک کم لاگت پر اشیا کو آخری صارف تک پہنچاتا ہے، محدود آمدن والے طبقے کو ادھار اور سہولت فراہم کرتا ہے اور معاشی دباؤ کے ادوار میں خود کو تیزی سے حالات کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ تاہم نقد لین دین اور غیر دستاویزی طریقہ کار کے باعث دکاندار جدید ڈیجیٹل نظام، باضابطہ قرضوں اور مالی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی پیداواری صلاحیت جمود کا شکار رہتی ہے۔
ریاست کے لیے اس صورتحال کا نتیجہ کم ٹیکس وصولی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، تاہم پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اب بھی خطے کے کئی ممالک سے کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریٹیل سیکٹر کی دستاویز بندی کے بغیر ٹیکس نیٹ میں مؤثر اور پائیدار توسیع ممکن نہیں۔
پالیسی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غیر رسمی شعبے کو رسمی نظام میں لانے کا عمل سزا کے بجائے سہولت اور اعتماد پر مبنی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مرحلہ وار حکمتِ عملی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، جس میں بڑے ریٹیلرز کے لیے مکمل ڈیجیٹل انوائسنگ، درمیانے درجے کے دکانداروں کے لیے سادہ نظام اور چھوٹے فروشوں کے لیے کیو آر ادائیگی اور کم شرح ٹیکس شامل ہو۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ درست نفاذ اور اعتماد سازی کے ذریعے پاکستان کی یہی غیر رسمی ریٹیل معیشت نہ صرف ٹیکس آمدن میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع، پیداواری صلاحیت اور مؤثر پالیسی سازی کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: غیر رسمی ریٹیل کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم