فلوریڈا مذاکرات: یوکرین جنگ پر اہم پیش رفت، جنگ بندی کا وقت طے نہ ہو سکا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ فلوریڈا میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پیش رفت ہوئی ہے، تاہم امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ علاقائی معاملہ تاحال ’حل طلب‘ ہے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 20 نکاتی فریم ورک پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فلوریڈا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد 90 فیصد اتفاق رائے ہو چکا ہے، جس میں سیکیورٹی ضمانتیں ابھرتے ہوئے منصوبے کا مرکزی جزو قرار دی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ، امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس سے دستبردار ہو، زیلنسکی کا انکشاف
یہ بات دونوں رہنماؤں نے مار-اے-لاگو میں صحافیوں سے مشترکہ گفتگو کے دوران کہی۔
https://Twitter.
صدر زیلنسکی نے بتایا کہ مذاکرات میں امن فریم ورک کے تمام پہلوؤں پر بات ہوئی اور آئندہ اقدامات کی ترتیب پر بھی اتفاق ہوا۔ ’ہم نے نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں، جبکہ پائیدار امن کے حصول کے لیے سیکیورٹی ضمانتیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان دوطرفہ سیکیورٹی ضمانتوں پر سو فیصد اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ وسیع تر ضمانتیں تقریباً طے پا چکی ہیں۔
یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطابق دونوں وفود کے درمیان سیاسی انتظامات، سیکیورٹی وعدے اور آئندہ مراحل کی ترتیب سمیت 20 نکاتی منصوبے کے بیشتر نکات پر وسیع اتفاق رائے حاصل ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے دونوں ٹیموں کے ارکان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر، اور یوکرینی حکام رستم عمروف اور آندری ہناتوف کا نام لیا۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ فریقین اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ آئندہ ہفتے ورکنگ لیول کی ٹیمیں مذاکرات جاری رکھیں گی تاکہ زیرِ بحث تمام امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کے تحت جنوری میں واشنگٹن میں یوکرینی اور یورپی رہنماؤں کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔
صدر زیلنسکی نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین امن کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی معاہدے کی بنیاد واضح اصولوں پر ہونی چاہیے اور وہ یوکرینی عوام کے مؤقف کی عکاسی کرے۔
20 نکاتی امن منصوبے میں شامل امور20 نکاتی امن منصوبے کے تحت فریقین کے درمیان متعدد اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے، منصوبے میں سب سے نمایاں پہلو سیکیورٹی ضمانتوں کا ہے، جہاں امریکا اور یوکرین کے درمیان دوطرفہ سیکیورٹی ضمانتوں پر مکمل اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ یورپ، امریکا اور یوکرین پر مشتمل وسیع تر سیکیورٹی انتظامات بھی تقریباً طے پا گئے ہیں۔
فوجی معاملات کے حوالے سے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اس پہلو پر بھی فریقین کے درمیان مکمل ہم آہنگی حاصل ہو چکی ہے۔ تاہم امن منصوبے کے تحت خوشحالی اور جنگ کے بعد بحالی سے متعلق منصوبوں کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں مزید مشاورت جاری ہے۔
حل طلب امورسیکیورٹی انتظامات میں پیش رفت کے باوجود علاقائی مسئلہ سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض علاقے آئندہ مہینوں میں زیرِ بحث آ سکتے ہیں اور ڈونباس سمیت کچھ علاقوں پر اختلافات کو دور کرنا ہوگا۔
تاہم صدر زیلنسکی نے کہا کہ علاقے کے معاملے پر یوکرین کا مؤقف بالکل واضح ہے اور یہ یوکرینی قانون اور عوامی خواہشات پر مبنی ہے، ان کے مطابق کیف اور ماسکو کے درمیان زمین کے مسئلے پر اب بھی ’مختلف مؤقف‘ موجود ہے۔
مزید پڑھیں:
کسی بھی ممکنہ علاقائی رعایت یا ٹائم لائن کے بارے میں دونوں رہنماؤں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، جبکہ جنگ بندی کے وقت سے متعلق بھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ دونوں نے مذاکرات کو حتمی کے بجائے جاری عمل قرار دیا۔
صدر زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ہم نے تمام امور پر سنجیدہ گفتگو کی اور گزشتہ ہفتوں میں یوکرینی اور امریکی ٹیموں کی پیش رفت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
یہ ملاقات حالیہ مہینوں میں یوکرینی اور امریکی حکام کے درمیان رابطوں کے سلسلے کی کڑی ہے، جن میں سیکیورٹی تعاون، طویل المدتی ضمانتوں اور ممکنہ تصفیے کی شرائط پر توجہ دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:
صدر ٹرمپ کے مطابق تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رہیں گے، جبکہ مسودہ تجاویز تیار ہونے کے بعد سیاسی بات چیت دوبارہ شروع کی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور باقی ماندہ اختلافی نکات، خصوصاً علاقائی امور اور مستقبل کی ضمانتوں میں بین الاقوامی شمولیت، پر مرکوز ہوگا، اور یوکرین کو یورپی شراکت داروں سے ’تعمیری تعاون‘ کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امن منصوبے جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ صدر ٹرمپ ولادیمیر زیلینسکی یوکرین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ ولادیمیر زیلینسکی یوکرین زیلنسکی نے کہا صدر زیلنسکی نے زیلنسکی نے کہ اور یوکرین کے درمیان نے کہا کہ کے مطابق پیش رفت کے لیے
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔