امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ فلوریڈا میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پیش رفت ہوئی ہے، تاہم امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ علاقائی معاملہ تاحال ’حل طلب‘ ہے۔

صدر زیلنسکی کے مطابق روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 20 نکاتی فریم ورک پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فلوریڈا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد 90 فیصد اتفاق رائے ہو چکا ہے، جس میں سیکیورٹی ضمانتیں ابھرتے ہوئے منصوبے کا مرکزی جزو قرار دی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ، امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس سے دستبردار ہو، زیلنسکی کا انکشاف

یہ بات دونوں رہنماؤں نے مار-اے-لاگو میں صحافیوں سے مشترکہ گفتگو کے دوران کہی۔

 https://Twitter.

com/ZelenskyyUa/status/2005411973278679457?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2005411973278679457%7Ctwgr%5Eeb9950f2775082e42c738e2859ecd5f9265dda5e%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Findianexpress.com%2Farticle%2Fworld%2F20-point-peace-plan-what-ukraine-and-the-us-agreed-in-trump-zelenskyy-talks-and-the-unresolved-agenda-10444110%2F

صدر زیلنسکی نے بتایا کہ مذاکرات میں امن فریم ورک کے تمام پہلوؤں پر بات ہوئی اور آئندہ اقدامات کی ترتیب پر بھی اتفاق ہوا۔ ’ہم نے نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں، جبکہ پائیدار امن کے حصول کے لیے سیکیورٹی ضمانتیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان دوطرفہ سیکیورٹی ضمانتوں پر سو فیصد اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ وسیع تر ضمانتیں تقریباً طے پا چکی ہیں۔

یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطابق دونوں وفود کے درمیان سیاسی انتظامات، سیکیورٹی وعدے اور آئندہ مراحل کی ترتیب سمیت 20 نکاتی منصوبے کے بیشتر نکات پر وسیع اتفاق رائے حاصل ہوا ہے۔

مزید پڑھیں:

انہوں نے دونوں ٹیموں کے ارکان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر، اور یوکرینی حکام رستم عمروف اور آندری ہناتوف کا نام لیا۔

صدر زیلنسکی نے کہا کہ فریقین اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ آئندہ ہفتے ورکنگ لیول کی ٹیمیں مذاکرات جاری رکھیں گی تاکہ زیرِ بحث تمام امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کے تحت جنوری میں واشنگٹن میں یوکرینی اور یورپی رہنماؤں کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔

صدر زیلنسکی نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین امن کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی معاہدے کی بنیاد واضح اصولوں پر ہونی چاہیے اور وہ یوکرینی عوام کے مؤقف کی عکاسی کرے۔

20 نکاتی امن منصوبے میں شامل امور

20 نکاتی امن منصوبے کے تحت فریقین کے درمیان متعدد اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے، منصوبے میں سب سے نمایاں پہلو سیکیورٹی ضمانتوں کا ہے، جہاں امریکا اور یوکرین کے درمیان دوطرفہ سیکیورٹی ضمانتوں پر مکمل اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ یورپ، امریکا اور یوکرین پر مشتمل وسیع تر سیکیورٹی انتظامات بھی تقریباً طے پا گئے ہیں۔

فوجی معاملات کے حوالے سے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اس پہلو پر بھی فریقین کے درمیان مکمل ہم آہنگی حاصل ہو چکی ہے۔ تاہم امن منصوبے کے تحت خوشحالی اور جنگ کے بعد بحالی سے متعلق منصوبوں کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں مزید مشاورت جاری ہے۔

حل طلب امور

سیکیورٹی انتظامات میں پیش رفت کے باوجود علاقائی مسئلہ سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض علاقے آئندہ مہینوں میں زیرِ بحث آ سکتے ہیں اور ڈونباس سمیت کچھ علاقوں پر اختلافات کو دور کرنا ہوگا۔

تاہم صدر زیلنسکی نے کہا کہ علاقے کے معاملے پر یوکرین کا مؤقف بالکل واضح ہے اور یہ یوکرینی قانون اور عوامی خواہشات پر مبنی ہے، ان کے مطابق کیف اور ماسکو کے درمیان زمین کے مسئلے پر اب بھی ’مختلف مؤقف‘ موجود ہے۔

مزید پڑھیں:

کسی بھی ممکنہ علاقائی رعایت یا ٹائم لائن کے بارے میں دونوں رہنماؤں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، جبکہ جنگ بندی کے وقت سے متعلق بھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ دونوں نے مذاکرات کو حتمی کے بجائے جاری عمل قرار دیا۔

صدر زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ہم نے تمام امور پر سنجیدہ گفتگو کی اور گزشتہ ہفتوں میں یوکرینی اور امریکی ٹیموں کی پیش رفت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

یہ ملاقات حالیہ مہینوں میں یوکرینی اور امریکی حکام کے درمیان رابطوں کے سلسلے کی کڑی ہے، جن میں سیکیورٹی تعاون، طویل المدتی ضمانتوں اور ممکنہ تصفیے کی شرائط پر توجہ دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں:

صدر ٹرمپ کے مطابق تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رہیں گے، جبکہ مسودہ تجاویز تیار ہونے کے بعد سیاسی بات چیت دوبارہ شروع کی جائے گی۔

زیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور باقی ماندہ اختلافی نکات، خصوصاً علاقائی امور اور مستقبل کی ضمانتوں میں بین الاقوامی شمولیت، پر مرکوز ہوگا، اور یوکرین کو یورپی شراکت داروں سے ’تعمیری تعاون‘ کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امن منصوبے جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ صدر ٹرمپ ولادیمیر زیلینسکی یوکرین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ ولادیمیر زیلینسکی یوکرین زیلنسکی نے کہا صدر زیلنسکی نے زیلنسکی نے کہ اور یوکرین کے درمیان نے کہا کہ کے مطابق پیش رفت کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار