صدر ٹرمپ کا دعویٰ: روس اور یوکرین مذاکرات اپنے آخری مراحل میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی کا فلوریڈا میں اپنی نجی رہائش گاہ مارالاگو پر استقبال کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات اب اپنے آخری مراحل میں ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا، “میرا خیال ہے ہم بات چیت کے آخری مرحلے میں ہیں۔ یا تو یہ جنگ ختم ہو جائے گی یا پھر یہ طویل عرصے تک جاری رہے گی، جس کے نتیجے میں مزید لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اب تک آٹھ جنگیں کامیابی سے ختم کروا چکے ہیں، لیکن روس-یوکرین جنگ سب سے زیادہ پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے، تاہم وہ پرعزم ہیں کہ اسے بھی انجام تک پہنچائیں گے۔
جب ان سے معاہدے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کے بارے میں پوچھا گیا تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی کوئی مخصوص ڈیڈ لائن نہیں ہے، ان کی واحد ترجیح جنگ کا خاتمہ ہے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ دونوں صدور معاہدہ چاہتے ہیں اور زیلنسکی سے ملاقات کے بعد وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے دوبارہ فون پر رابطہ کریں گے تاکہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔ ٹرمپ نے اس سے قبل اتوار کو پیوٹن کے ساتھ اپنی گفتگو کو مثبت اور مفید قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک مضبوط سیکیورٹی معاہدہ تیار کیا جا رہا ہے جس میں یورپی ممالک کا کردار کلیدی ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔