ویڈیو: ’آپ سب کرپٹ ہیں‘، اوورسیز پاکستانی کی پییپلز پارٹی رہنما سعید غنی سے شاپنگ مال میں بدتمیزی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو گئی ہے جس میں سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی کو ان کی فیملی کے ساتھ شاپنگ کے دوران ایک اوورسیز پاکستانی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اوورسیز پاکستانی سعید غنی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ نے میرے شہر کراچی کو تباہ کر دیا جس کی وجہ سے میں وہاں چھوڑ کر باہر چلا آیا اور آپ اب یہاں مزے سے گھوم رہے ہیں۔ آپ اور آپ کی پارٹی کو شرم آنی چاہیے آپ سب کرپٹ ہیں۔
آپ نے میرے شہر کراچی کو تباہ کردیا ہے، آپکو آپکی پیپلزپارٹی کو شرم آنی چاہئیے۔ ایک اوورسیز پاکستانی کا شاپنگ مال میں صوبائی وزیر سعید غنی سے مکالمہ pic.
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) December 28, 2025
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مختلف ردعمل ظاہر کیے کئی صارفین نے کہا کہ اوور سیز پاکستانی نے بالکل درست کہا ہے جبکہ دیگر صارفین یہ کہتے نظر آئے کہ سعید غنی کو فیملی کے سامنے ہراساں کیا گیا ہے یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
ایک صارف نے کہا کہ کوئی اپنی فیملی کے ساتھ ہے شاپنگ کر رہا ہے اور آپ کے بات کرنے پر تمیز تہذیب کے ساتھ جواب بھی دے رہا ہے تو یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا۔ بچے کے سامنے گندی زبان کے استعمال پر شرم آنی چاہیے۔ صارفین کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے کراچی کے معاملے میں بہت شکایتیں ہیں مگر یہ رویہ غلط ہے اور سعید غنی کا تحمل قابل تعریف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیپلز پارٹی سعید غنی سعید غنی ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی سعید غنی ویڈیو وائرل اوورسیز پاکستانی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔