تمام مشاغل ایک طرف، یہ واحد مشغلہ آپ کو ذہین ترین بنا سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
ہر انسان کے اپنے اپنے پسندیدہ مشغلے ہوتے ہیں جن میں وہ فارغ وقت میں مشغول ہوتا ہے۔ لیکن ہر مشغلے کے ذہن پر مختلف اثرات ہوتے ہیں۔
ذہنی نشونما کے حوالے سے اگر تمام مشاغل میں سے ایک مشغلہ چننے کی بات کی جائے جو آپ کو دوسروں سے زیادہ ذہین بنا سکتا ہے تو زیادہ تر ماہرین کے نزدیک وہ ہے مطالعہ۔
مطالعہ، خاص طور پر باقاعدہ مطالعہ بیک وقت دماغ کے کئی حصوں کو فعال کرتا ہے۔ مطالعہ انسان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور تجزیہ اور تنقیدی سوچ پیدا کرتا ہے جو کہ خود اپنی ذات کی حد تک اور دوسروں سے تعامل و روابط میں کارآمد ہوتی ہے۔
اسی طرح مطالعہ قوتِ بیان اور اظہارِ خیال کو مضبوط کرتا ہے۔ تخیل اور تخلیقی سوچ کو بھی وسعت دیتا ہے۔ اس مشغلے سے توجہ اور یادداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔
لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کن اقسام کے مواد کا مطالعہ کیا جائے۔ تو ماہرین کا ماننا ہے خاص طور پر دینی کتب، سائنسی کتب، فلسفہ، تاریخ اور معیاری فکشن (ناول، افسانوں) کا مطالعہ کیا جائے جو مذکورہ بالا تمام دماغی افعال کا احاطہ کریں گے۔
یہ سب مواد دماغ کو ’گہرائی سے سوچنے‘ کی تربیت دیتے ہیں۔
تاہم اگر مطالعے کے ساتھ ساتھ درج ذیل مشاغل بھی اپنائیں جائیں تو یہ سونے پہ سہاگہ والی بات ہوگی یعنی ذہن کو مزید وسعت ملے گی۔
شطرنج: مسئلہ حل کرنے اور منصوبہ بندی کے لیے
نئی زبان سیکھنا: دماغی لچک
لکھنا: خیالات کو واضح اور منظم کرنے کی صلاحیت
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔