پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شاندار تیزی: انڈیکس نئی تاریخی سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج ریکارڈ ساز تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔
کاروباری ہفتے کے پہلے روز بازار حصص میں شروعات ہی میں 1408 پوائنٹس کی نمایاں تیزی دیکھنے کو ملی، جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 73 ہزار 808 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
مارکیٹ میں تیزی کا رجحان بعد میں بھی جاری رہا اور انڈیکس بتدریج 1678 اور پھر 1805 پوائنٹس کی شاندار تیزی کے ساتھ بڑھ کر ایک لاکھ 75 ہزار 205 پوائنٹس تک جا پہنچا۔ اس دوران مختلف شعبوں کے حصص میں مسلسل خریداری دیکھی گئی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظاہرہ بھی سامنے آیا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار نئے ریکارڈ کے ساتھ بند ہوا تھا، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے آج مارکیٹ میں بھرپور خریداری کی۔ اسٹاک ایکسچینج میں یہ ریکارڈ ساز تیزی ملکی معیشت اور سرمایہ کار اعتماد کی مضبوطی کی واضح نشانی سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں جاری یہ مثبت رجحان سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور مالی شعبے میں استحکام فراہم کرنے کے لیے اہم ہے جب کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد مارکیٹ کی مسلسل ترقی کی بنیاد قرار دی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔