شدید دھند کے باعث موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: وسطی ریجن میں شدید دھند کے باعث مختلف مقامات پر موٹرویز کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن تک دھند کی وجہ سے بند ہے، جبکہ موٹروے ایم تھری فیض پور سے درخانہ تک اور موٹروے ایم فور پنڈی بھٹیاں سے خانیوال تک ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
اسی طرح لاہور۔سیالکوٹ موٹروے ایم الیون پر بھی دھند کے باعث آمدورفت معطل ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ موٹرویز کی بندش عوام کی جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر کی گئی ہے۔
ادھر قومی شاہراہ پر لاہور، پتوکی، اوکاڑہ اور ساہیوال کے علاقوں میں دھند چھائی ہوئی ہے، جبکہ چیچہ وطنی، اقبال نگر، میاں چنوں، خانیوال، ملتان اور بہاولپور میں بھی دھند کے باعث حدِ نگاہ شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دھند کے باعث موٹروے ایم
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔