ایس پی شہر بانو نے گزشتہ دنوں اپنے خلاف گردش کرنے والی خبروں کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خاموشی کو بعض افراد نے غلط فہمی کے تحت مجرمانہ یا ملوث ہونے کے مترادف سمجھا حالانکہ حقیقت بالکل مختلف ہے۔

انہوں نے وضاحت دی کہ جرم کے اعتراف اور چیک معاملے کے ہمارے پاس آنے سے پہلے ہی دیے گئے تھے۔ وہ دونوں فریقین سے صرف ایک مرتبہ 9 مئی 2025 کو اپنے دفتر میں ملیں۔ اس ملاقات کے بعد کسی بھی قسم کے رابطے میں نہیں رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیک بغیر کسی پولیس مداخلت کے 1 مئی 2025 کو دیے گئے، معافی کا خط پولیس کے علم میں آنے سے پہلے کلینک کے لیٹر ہیڈ پر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مالی لین دین کا عمل بعد میں ہوا اور شہر بانو نقوی کسی بھی مالی لین دین میں ملوث نہیں تھیں۔ شکایت بھی صرف ایک مرتبہ سنی گئی جس میں دونوں فریقین نے ذاتی طور پر کیے گئے معاہدے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

ایس پی نے واضح کیا کہ انہیں اکتوبر یا نومبر کے پہلے ہفتے میں ماڈل ٹاؤن میں ایس پی کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا اور اس کے بعد وہ اے ایس پی دفتر سے وابستہ نہیں رہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور صفحات سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کو کلک بیٹ کے لیے استعمال نہ کریں اور غلط معلومات نہ پھیلائیں۔ انہوں نے کہا دعا کریں، محبت کریں، اور امید پھیلائیں جھوٹ نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شعور عطا فرمائے کہ غلط معلومات دینا گناہ ہے۔ آخر میں ایس پی نے کہا کہ  شکر گزار رہیں کہ میں آپ سب کے خلاف عدالت نہیں جا رہی۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر علی زین العابدین جو لاہور میں آنکھوں کے سرجن ہیں، نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں اے ایس پی شہربانو نقوی اور اے ایس پی ثروت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق ایک خاتون مریضہ نے ان کے کلینک میں لیزر آئی سرجری کرائی تھی جس کی مد میں ڈیڑھ لاکھ روپے ادائیگی کی تاہم مریضہ نے بعد میں پیچیدگیوں کی شکایت کی اور زبردستی 4 لاکھ روپے لے لیے۔

ڈاکٹر زین العابدین کے مطابق یہ واقعہ اپریل میں پیش آیا اس وقت شہر بانو نقوی ڈی ایچ اے میں اے ایس پی کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مریضہ میرے کلینک پر آئی اور سرجری کرانے کے بعد چلی گئی، لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد وہ واپس کلینک پر آئی اور بتایا کہ اس کو ٹھیک نظر نہیں آرہا، لہٰذا اسے آپریشن کے پیسے واپس کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایس پی شہر بانو پر سنگین الزامات، آئی سرجن ڈاکٹر زین العابدین نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا

’میرے ساتھ خاتون کا بحث مباحثہ بھی ہوا، لیکن جب مجھے زدوکوب کیا گیا تو میں نے پیسے نے واپس کر دیے۔ خاتون مریضہ نے ڈیڑھ لاکھ روپے سرجری کے دیے تھے لیکن مجھ سے 4 لاکھ روپے وصول کیے۔‘ ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ پھر مجھے چند دنوں بعد اے ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی کی طرف سے کال آتی ہے کہ آپ کو پولیس اسٹیشن بلایا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب میں اے ایس پی شہر بانو کے سامنے پیش ہوا تو مجھے کہا گیا کہ آپ نے مریضہ کا آپریشن غلط کیا ہے اسے پیسے واپس کیے جائیں۔ لیکن مریضہ تو پہلے ہی میرے کلینک میں آکر زور زبردستی سے 4 لاکھ روپے کی رقم لے چکی تھی۔ ’مجھے مریضہ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اب علاج لندن سے کروانا چاہتی ہیں، اس کا جو خرچ آئے گا وہ ادا کیا جائے۔ مجھے ڈرایا دھمکایا گیا جس پر میں نے 10 لاکھ روپے کے 3 چیک مریضہ کے حوالے کردیے۔‘

یہ بھی پڑھیں: شہر بانو نقوی کی کھلی کچہری: ’یہ بڑی ہو کر محسن نقوی بنیں گی‘

انہوں نے کہاکہ ان 3 میں سے 2 چیک کیش ہو چکے ہیں، جبکہ مزید 2 چیک رکوانے کے لیے میری لیگل ٹیم نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر علی زین العابدین کے مطابق انہیں پولیس اسٹیشن بلوانے کے لیے ایس ایچ او خرم کو کلینک پر بھی بھیجا گیا تھا۔ ’ایس ایچ او نے میرے گارڈ کو بھی غیرقانونی طور پر کلینک سے اٹھا کر حوالات میں بند کردیا تھا۔‘

آئی سرجن ڈاکٹر زین العابدین کے مطابق مریضہ اب تک ان سے 14 لاکھ روپے لے چکی ہے، جس کی وجہ خاتون کے پولیس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پوڈکاسٹ کے دوران قتل کی کال، ایک گھنٹے میں واپسی، شہربانو نقوی کی ویڈیو پر صارفین حیران

ڈاکٹر علی زین العابدین نے کہاکہ پولیس کسی بھی ڈاکٹر کو میڈیکل رپورٹ یا میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے بغیر اسٹیشن نہیں بلا سکتی۔

انہوں نے سوال کیاکہ پولیس کس حیثیت سے یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ کسی ڈاکٹر کا آپریشن صحیح ہوا یا نہیں، اور اس کا جائزہ لینے کے لیے ان کے پاس کون سی طبی ڈگریاں موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی آپریشن کی درستگی کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے، پولیس افسر نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایس پی شہر بانو نقوی ڈاکٹر علی زین العابدین شہر بانو نقوی شہر بانون نقوی الزامات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایس پی شہر بانو نقوی ڈاکٹر علی زین العابدین شہر بانو نقوی شہر بانون نقوی الزامات ڈاکٹر علی زین العابدین ایس پی شہر بانو شہر بانو نقوی لاکھ روپے ڈاکٹر زین اے ایس پی کے مطابق انہوں نے کسی بھی کے بعد نے کہا کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک