توہینِ مذہب کے ملزم کی میت پر ہنگامہ، سپریم کورٹ نے مولوی احمد کی ضمانت مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سپریم کورٹ نے توہینِ مذہب کے ملزم کی میت دفنانے کے دوران ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں نامزد مولوی احمد کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی ہے۔
یہ درخواست ملزم کی جانب سے واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی گئی۔
جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے استقبالیہ پر دل کا دورہ، راولپنڈی کے رہائشی عابد حسین چل بسا
دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ اس مقدمے کی سماعت 3 ماہ کے اندر مکمل کرے۔
وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ توہینِ مذہب کے ملزم کی میت دفنانے کے موقع پر جھگڑا ہوا، تاہم ان کے موکل مولوی احمد اس وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔
وکیل کے مطابق مولوی احمد کا واقعے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے متنازع ٹوئیٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا ٹرائل روک دیا
اس کے برعکس سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم مولوی احمد نے موقع پر لوگوں سے خطاب کیا جس کے نتیجے میں اشتعال پھیلا اور حالات کشیدہ ہوئے۔
سرکاری وکیل کے مطابق مقدمے میں اب تک 4 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ مولوی احمد کے خلاف سندھ کے علاقے تھانہ عمر کوٹ میں اشتعال دلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
توہین مذہب جسٹس جمال مندوخیل سپریم کورٹ سندھ عمرکوٹ مولوی احمد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: توہین مذہب جسٹس جمال مندوخیل سپریم کورٹ عمرکوٹ مولوی احمد سپریم کورٹ نے مولوی احمد ملزم کی
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔