یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف اسلامی شعائر کی توہین کے الزام میں درج مقدمے کی سماعت کے موقع پر سٹی کورٹ میں کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں ان کی آمد پر دھکم پیل اور ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا۔

صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ دھکم پیل کے دوران رجب بٹ کے کپڑے بھی پھٹ گئے، واقعے کے دوران رجب بٹ کے وکلا نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی اور انہیں محفوظ طریقے سے عدالت کے احاطے سے نکالا۔

سٹی کورٹ میں پیش آنے والے اس واقعے کے باعث کچھ دیر کے لیے بدانتظامی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ناقابل ضمانت وارنٹ کے بعد سرنڈر، رجب بٹ عدالت پہنچ گئے

رجب بٹ کے خلاف تھانہ حیدری میں توہین مذہب اور اسلامی شعائر کی توہین کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے، جس میں وہ پہلے ہی عبوری ضمانت پر ہیں۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں رجب بٹ کی درخواست ضمانت پر سماعت مقرر تھی، تاہم عدالت نے بغیر کسی کارروائی کے رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 13 جنوری تک ملتوی کر دی۔

عدالتی ذرائع کے مطابق سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا، جبکہ آئندہ تاریخ پر درخواست ضمانت پر تفصیلی دلائل سنے جائیں گے۔

یوٹیوبر پر تشدد کس نے کیا؟

 ضمانت میں توسیع کے لیے وہ اپنے دوست ندیم نانی والا کے ہمراہ سٹی کورٹ کراچی پہنچےجہاں ان کی وکلا ٹیم بھی موجود تھی۔

عدالتی ذرائع کے مطابق رجب بٹ سٹی کورٹ آئے تو عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے تھے لیکن ان کے ساتھ آج وہ ہوا جو شاید انہیں کبھی بھول نہ پائیں۔

عدالتی زرائع کے مطابق وکلا کی بڑی تعداد نے رجب بٹ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اگر ایسا کہا جائے کہ رجب بٹ کو فٹبال بنایا گیا تو غلط نہ ہو گا اس دوران رجب بٹ کے کپڑے پھٹ چکے تھے اور ان کا خون بھی بہا۔

مزید پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کا بگ برادر کون ہے؟

ذرائع کے مطابق وکلا نے اس دوران کسی کو ویڈیو بنانے نہیں دی، مارپیٹ کے بعد انہیں کراچی بار لے جایا گیا جہاں ان کا حلیہ درست کرکے پھر میڈیا کو اورعام افراد کو ویڈیو بنانے دی گئی۔

وکلا کے مطابق رجب بٹ پہلے تو توہین مزہب کا مرتکب ہوئے اس کے بعد انہوں نے وکلا کو کیڑے مکوڑوں سے تشبیہ بھی دی۔

کراچی بار میں ہزاروں وکلا ہیں جو روزانہ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ایسے الفاظ استعمال کرنے سے پہلے یہ تو سوچا جائے کہ کسی ایک وکیل کو بھی اشتعال آیا تو نتیجہ پھر یہ نکلتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تشدد رجب بٹ سٹی کورٹ کپڑے کراچی بار ندیم نانی والا وکلا یوٹیوبرز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سٹی کورٹ کپڑے کراچی بار ندیم نانی والا وکلا یوٹیوبرز رجب بٹ کے سٹی کورٹ کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار