تھائی اور کمبوڈیائی افواج کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
تھائی اور کمبوڈیائی افواج کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 December, 2025 سب نیوز
بیجنگ (سب نیوز) چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے چین کے صوبہ یون نان کے شہر یوشی میں تھائی لینڈ کے وزیرِ خارجہ سیہاسک پھوانگک ٹکیو سے ملاقات کی۔
پیر کے روز
وانگ ای نے کہا کہ چین تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی سرحدی کشیدگی پر گہری توجہ رکھتا ہے اور اس تنازع کے نتیجے میں عام شہریوں کے جانی نقصان اور لوگوں کی بے گھری پر شدید افسوس کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف فریقوں کی کوششوں سے تھائی اور کمبوڈیائی افواج کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جو امن کی جانب ایک اہم ابتدائی قدم ہے، اور چین اس پیش رفت کو اطمینان کی نظر سے دیکھتا ہے۔
وانگ ای نے واضح کیا کہ چین آئندہ بھی تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن کی بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا، آسیان کے کردار کی حمایت کرے گا، جنگ بندی کی نگرانی کے لیے آسیان مبصر مشن کو مدد فراہم کرنے پر آمادہ ہے، اور دونوں ممالک کے اہل شہریوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے ۔
تھائی وزیرِ خارجہ نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے تنازع کے حل کے لیے چین کی جانب سے “ایشیائی طریقۂ کار” کے تحت کی گئی مثبت اور تعمیری کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ پائیدار جنگ بندی کے قیام اور حقیقی و دیرپا امن کے حصول کے لیے پُرعزم ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے جج جسٹس خالد یوسف چودھری نے حلف اٹھا لیا روس یوکرین جنگ بندی: ٹرمپ اور زیلنسکی کی طویل ملاقات بغیر کسی بڑے بریک تھرو کے ختم برطانیہ میں سکھ کمیونٹی کا بنگلادیش کی حمایت میں بھارت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ ہماری ریاست کسی کیلئے خطرہ نہیں،افغان وزیر داخلہ کا پاکستان سے مفاہمت کا اشارہ جرمنی نے سنگین جرائم میں ملوث ایک اور افغان تارکین وطن کو ملک بدر کردیا افغان صوبے بغلان میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا طالبان کے 3 اہلکار ہلاک کرنے کا دعوی ملائیشیا؛ کرپشن الزامات پر آرمی چیف کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا؛ تحقیقات شروعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے درمیان
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔