بھارت کی آبی جارحیت میں اضافہ، دریائے چناب پر پن بجلی منصوبے کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارت نے ایک مرتبہ پھر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب پر پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
بھارت کی جانب سے آبی جارحیت پر پاکستان میں شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے یہ اقدام پاکستان کے تسلیم شدہ آبی حقوق کے منافی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دلہستی اسٹیج ٹو پن بجلی منصوبہ سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے پانی پر طے شدہ حقوق پر براہِ راست حملہ ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
جھوٹ بول کر کراچی بھیجا گیا، ہینڈلرکیوں ناکام رہا ،سازش کیسے بے نقاب ہوئی ؟ بچی اور والدہ کے بیان بھی سامنے آ گئے
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے پاکستان کی آبی سلامتی کے ساتھ ساتھ زرعی نظام اور ماحولیاتی توازن کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دلہستی منصوبہ دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے بھی پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے، جو علاقائی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی کمی بھارتی آبی جارحیت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملک کی مرضی پر نہیں بلکہ عالمی ضمانتوں کے تحت طے شدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔
فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر کم سن بچوں کو نیا ہدف بنا رہے ہیں : وزیر داخلہ سندھ
انہوں نے زور دیا کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ اگر بھارت باز نہ آیا تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو عالمی فورمز پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی انہوں نے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔