سندھ کے تعلیمی اداروں میں بہتری کی بہت گنجائش ہے: بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسکرین گریب
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، سندھ کے تعلیمی اداروں میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔
شہید بےنظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے 7ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج صرف اسناد کی تقسیم کا دن نہیں، بلاتعطل علاج کی فراہمی بھی ہے، فارغ التحصیل طلبہ نے اب عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آپ نے اپنے صوبے کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینی ہیں، مشکل گھڑی میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف قوم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں، آپ نے بلاتفریق انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنانا ہے۔
لاڑکانہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے.
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہمیں صحت کے شعبے میں مکمل تیار رہنا چاہیے، ملک کو جب بھی کسی دباؤ کا سامنا ہوا ہمارے ڈاکٹرز اور نرسوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ادارے صرف بلڈنگ اور جدید مشینری سے کامیاب نہیں ہوتے، جب آپ آئیں گے اور کام کریں گے تو ادارے کامیاب ہوں گے، آپ اچھے ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بننے کے لیے بھی محنت کریں۔
انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ یہ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہیلتھ کیئر سسٹم میں بہتری ہماری ترجیح ہے، 18ویں ترمیم کے بعد سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں اقدامات کیے گئے۔
بلاول بھٹو کے مشکور ہیں جنہوں نے اپنی والدہ کے خواب کو پورا کیا: مراد علی شاہاس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ بےنظیر بھٹو نے 1989 میں یونیورسٹی کا خواب دیکھا تھا جو 2009 میں مکمل ہوا۔ چانڈکا میڈیکل کالج کی بنیاد 1973 میں رکھی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کے مشکور ہیں جنہوں نے اپنی والدہ کے خواب کو پورا کیا، ڈاکٹرز کی کمٹمنٹ سے علاج ممکن ہے، صرف انفرا اسٹرکچر سے علاج ممکن نہیں۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ ڈگری صرف آپ کی نہیں ان مریضوں کی اُمید ہے جن کا آپ علاج کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ کریں گے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔